حدیث نمبر: 1618
أخبرنا إبراهيم العَدْل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا محمد بن أبي عَدِي، أخبرنا حُمَيد الطويل، عن أنس بن مالك قال: كان رسولُ الله ﷺ يَعتكِفُ في العَشْر الأواخر من رمضان، فلم يَعتكِفْ عامًا، فلما كان العامُ المقبِلُ اعتَكَفَ عشرين (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، ایک سال آپ ﷺ اعتکاف نہ فرما سکے، چنانچہ جب اگلا سال آیا تو آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. إبراهيم العدل: هو إبراهيم بن عِصمة بن إبراهيم، ويحيى بن يحيى: هو النيسابوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: ابراہیم العدل سے مراد ابراہیم بن عصمہ ہیں اور یحییٰ بن یحییٰ نیشاپوری ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (12017)، ومن طريقه ابن حبان (3662) و (3664). وأخرجه الترمذي (803) عن محمد بن بشار، كلاهما (أحمد ومحمد) عن ابن أبي عدي، بهذا الإسناد. قال الترمذي: حديث حسن غريب من حديث أنس بن مالك.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 19/ (12017) اور وہیں سے ابن حبان (3662، 3664) نے روایت کیا ہے۔ ترمذی (803) نے اسے محمد بن بشار کے طریق سے نقل کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حضرت انس ؓ کی حدیث سے حسن غریب ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: ابراہیم العدل سے مراد ابراہیم بن عصمہ ہیں اور یحییٰ بن یحییٰ نیشاپوری ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (12017)، ومن طريقه ابن حبان (3662) و (3664). وأخرجه الترمذي (803) عن محمد بن بشار، كلاهما (أحمد ومحمد) عن ابن أبي عدي، بهذا الإسناد. قال الترمذي: حديث حسن غريب من حديث أنس بن مالك.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 19/ (12017) اور وہیں سے ابن حبان (3662، 3664) نے روایت کیا ہے۔ ترمذی (803) نے اسے محمد بن بشار کے طریق سے نقل کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حضرت انس ؓ کی حدیث سے حسن غریب ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1618 سے ماخوذ ہے۔