حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَكَّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي، حدثنا أبو يونس حاتم بن أبي صَغيرة، عن سِمَاك بن حرب، عن أبي صالح، عن أم هانئ: أنَّ رسول الله ﷺ كان يقول: "الصائمُ المتطوِّعُ أميرُ نفسِه، إن شاء صامَ، وإن شاء أفطرَ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”نفل روزہ رکھنے والا خود اپنا امیر (با اختیار) ہے، اگر چاہے تو روزہ پورا کرے اور اگر چاہے تو اسے افطار کر لے۔“
حدثنا الشيخ الإمام أبو الوليد حسّان بن محمد الفقيه، حدثنا جعفر بن أحمد بن نصر، حدثنا بُنْدار، حدثنا يحيى بن أبي الحَجّاج الخاقاني، حدثنا حاتم بن أبي صَغِيرة، حدثني سِمَاك بن حرب، عن أبي صالح، عن أم هانئ قالت: قال رسول الله ﷺ: "المتطوِّع بالخِيار، إن شاء صامَ، وإن شاء أفطَرَ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وتلك الأخبارُ المعارِضة لهذا، لم يصحَّ منها شيء.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وتلك الأخبارُ المعارِضة لهذا، لم يصحَّ منها شيء.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نفل روزہ رکھنے والے کو اختیار حاصل ہے، اگر چاہے تو روزہ رکھے اور اگر چاہے تو توڑ دے۔“
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے معارض جو روایات آتی ہیں ان میں سے کوئی بھی (سنداً) صحیح ثابت نہیں ہے۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے معارض جو روایات آتی ہیں ان میں سے کوئی بھی (سنداً) صحیح ثابت نہیں ہے۔