حدیث نمبر: 1625
أخبرنا عبد الله بن محمد البَلْخي ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل السُّلَمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، حدثني أبو طلحة نُعيم بن زياد الأنصاري، قال: سمعتُ النُّعمان بن بَشِير، على مِنبَر حمص يقول: قُمنا مع رسول الله ﷺ في شهر رمضان ليلةَ ثلاثٍ وعشرين إلى ثُلُث الليل، ثم قمنا معه ليلةَ خمسٍ وعشرين إلى نصف الليل، ثم قُمنا معه ليلةَ سبعٍ وعشرين إلى نصف الليل، حتى ظننَّا أن لا نُدرِكَ الفَلاحَ، وكنا نُسمِّيها الفلاحَ وأنتم تُسمُّون السُّحور (1).
هذا حديث صحيح على شرظ البخاري (2)، ولم يُخرجاه. وفيه الدليلُ الواضح أنَّ صلاة التراويح في مساجد المسلمين سُنةٌ مسنونة، وقد كان عليُّ بن أبي طالب يحثُّ عمرَ على إقامة هذه السُّنَّة إلى أن أقامها. هذا آخر ما انتهى إليه علمي من الأحاديث الصحيحة في أبواب كتاب الصيام مما لم يُخرجه الشيخان ﷽ [أول كتاب المناسك]
حافظ طلحہ بابر

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ حمص کے منبر پر بیان فرما رہے تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ماہِ رمضان میں تیئیسویں رات کو ایک تہائی رات گزرنے تک قیام (تراویح) کے لیے کھڑے رہے، پھر ہم آپ ﷺ کے ساتھ پچیسویں رات کو آدھی رات تک کھڑے رہے، پھر ستائیسویں رات کو بھی آپ ﷺ کے ساتھ آدھی رات تک قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں ہم سے «فلاح» چھوٹ نہ جائے؛ ہم اسے فلاح کہتے تھے جبکہ تم اسے سحور (سحری) کہتے ہو۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس حدیث میں اس بات کی واضح دلیل موجود ہے کہ مسلمانوں کی مساجد میں نمازِ تراویح کا باجماعت اہتمام ایک مسنون سنت ہے، اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس سنت کے قیام پر ابھارتے رہتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے اسے باقاعدہ قائم کر دیا۔ یہ روزے کے ابواب کی ان صحیح احادیث کا اختتام ہے جنہیں شیخین نے روایت نہیں کیا۔ [کتاب المناسک کا آغاز]

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1625
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن صالح - وهو المصري كاتب الليث بن سعد - فهو حسن في المتابعات والشواهد، وقد توبع. أبو إسماعيل السلمي: اسمه محمد بن إسماعيل. وأخرجه أحمد 30/ (18402)، والنسائي (1301) من طريق زيد بن الحباب، عن معاوية بن صالح، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 1625] [ترقيم الشركة 1614]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن صالح - وهو المصري كاتب الليث بن سعد - فهو حسن في المتابعات والشواهد، وقد توبع. أبو إسماعيل السلمي: اسمه محمد بن إسماعيل. وأخرجه أحمد 30/ (18402)، والنسائي (1301) من طريق زيد بن الحباب، عن معاوية بن صالح، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور عبداللہ بن صالح کی وجہ سے سند حسن ہے، جن کی تائید موجود ہے۔ اسے احمد 30/ (18402) اور نسائی (1301) نے زید بن حباب عن معاویہ بن صالح کی سند سے روایت کیا ہے۔
وله شاهد من حديث أبي ذر الغفاري عند أحمد 35 / (21419)، وأبي داود (1375)، وابن ماجه (1327)، والنسائي (1289)، وابن حبان (2547)، وإسناده صحيح.
متابعات و شواہد: اس کا شاہد حضرت ابو ذر ؓ کی حدیث ہے جو احمد 35/ (21419)، ابو داود (1375) اور دیگر کتب میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔
(2) تعقبه الذهبي في "التلخيص" بقوله: كذا قال، ومعاوية إنما احتجَّ به مسلم، وليس الحديث على شرط واحد منهما، بل هو حسن.
درجۂ حدیث: امام ذہبی نے تلخیص میں کہا کہ یہ حدیث دونوں (بخاری و مسلم) کی شرط پر نہیں بلکہ صرف حسن ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1625 سے ماخوذ ہے۔