کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ہمیشہ (سارا سال) روزہ رکھنے کی ممانعت۔
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبي، قال: حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شعبة، عن قَتادة، عن مُطرِّف، عن أبيه: أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "مَن صامَ الدَّهرَ ما صامَ وما أفطَرَ"، أو "لا صامَ ولا أفطَرَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وشاهدُه على شرطهما صحيحٌ، ولم يُخرجاه (2):
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مطرف اپنے والد (عبداللہ بن شخیر) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا (یعنی بلا ناغہ سال بھر روزے رکھتا رہا) اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا“، یا (فرمایا): ”نہ اس کا روزہ ہوا اور نہ ہی افطار۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ اور ان کی شرط پر اس کا ایک صحیح شاہد بھی موجود ہے جسے انہوں نے روایت نہیں کیا:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1606
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،سعيد بن مسعود: هو ابن عبد الرحمن المروزي، ومُطرِّف: هو ابن عبد الله بن الشِّخِّير. وهو في "مسند أحمد" 26/ (16315).» [ترقيم الرساله 1606] [ترقيم الشركة 1595]
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل - وهو ابن عُلَيَّة - عن سعيد بن إياس الجُرَيْري، عن يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير، عن مُطَرِّف، عن عِمْران بن حُصَين قال: قيلَ لرسول الله ﷺ: إنَّ فلانًا لا يُفطِرُ نهارَ الدَّهر، قال: "لا صامَ ولا أفطَرَ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: فلاں شخص دن بھر ہمیشہ روزہ رکھتا ہے (کبھی ناغہ نہیں کرتا)، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1607
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وهو في "مسند أحمد" 33/ (19825) و (19873) و (19892).» [ترقيم الرساله 1607] [ترقيم الشركة 1596]