أخبرني أبو حُمَيد أحمد بن محمد بن حامد العدلُ بالطَّابَرَان، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل العَنْبري، حدثنا صفوان بن صالح، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن عبد الله بن بُسْر السُّلَمي، عن أخته الصَّمَّاء، أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "لا تصوموا يوم السبت إلَّا فيما افتُرِضَ عليكم، وإن لم يَجِدْ أحدُكم إلَّا لِحَاءَ عِنَبةٍ أو عُودَ شجرةٍ فليَمْضَغْها" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله معارضٌ بإسناد صحيح وقد أخرجاه؛ حديثُ همام، عن قتادة، عن أبي أيوب العَتَكي، عن جُوَيرِيَة بنت الحارث: أنَّ النبي ﷺ دخل عليها يومَ الجمعة وهي صائمة، فقال: "صُمْتِ أمسِ؟ " قالت: لا، قال: "فتُريدينَ أن تَصُومي غدًا؟ "، الحديث (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله معارضٌ بإسناد صحيح وقد أخرجاه؛ حديثُ همام، عن قتادة، عن أبي أيوب العَتَكي، عن جُوَيرِيَة بنت الحارث: أنَّ النبي ﷺ دخل عليها يومَ الجمعة وهي صائمة، فقال: "صُمْتِ أمسِ؟ " قالت: لا، قال: "فتُريدينَ أن تَصُومي غدًا؟ "، الحديث (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بسر سلمی رضی اللہ عنہ اپنی بہن صماء سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو سوائے اس کے جو تم پر فرض کر دیا گیا ہو، اور اگر تم میں سے کوئی (افطار کے لیے) انگور کی چھال یا درخت کی ٹہنی کے سوا کچھ نہ پائے تو اسے ہی چبا لے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ جبکہ اس کے معارض ایک صحیح حدیث موجود ہے جسے شیخین نے روایت کیا ہے؛ یعنی سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی روایت کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن ان کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ روزے سے تھیں، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم کل (ہفتے کو) روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتی ہو؟“ (پھر پوری حدیث ذکر کی جس میں ہفتے کے روزے کی ممانعت نہیں بلکہ انفرادی جمعہ کے روزے کی ممانعت کا ذکر ہے)۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ جبکہ اس کے معارض ایک صحیح حدیث موجود ہے جسے شیخین نے روایت کیا ہے؛ یعنی سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی روایت کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن ان کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ روزے سے تھیں، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم کل (ہفتے کو) روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتی ہو؟“ (پھر پوری حدیث ذکر کی جس میں ہفتے کے روزے کی ممانعت نہیں بلکہ انفرادی جمعہ کے روزے کی ممانعت کا ذکر ہے)۔
فحدَّثَني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثنا ابن وَهْب، قال: سمعتُ الليث يحدِّث عن ابن شهابٍ: أنه كان إذا ذُكِر له أنه نُهِيَ (2) عن صيام يوم السبت، قال:
هذا حديثٌ حمصي (3). وله مُعارِضٌ بإسنادٍ صحيح:
هذا حديثٌ حمصي (3). وله مُعارِضٌ بإسنادٍ صحيح:
حافظ طلحہ بابر
امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب ان کے سامنے ہفتے کے دن کے روزے کی ممانعت کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ حمصیوں کی روایت ہے (یعنی اس کی صحت پر کلام ہے)۔“ اور اس کے مقابلے میں ایک اور صحیح سند سے بھی روایت موجود ہے: