کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے شک کے دن روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيبةَ، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن عمرو بن قيس المُلَائي، عن أبي إسحاق، عن صِلَةَ بن زُفَرَ قال: كنَّا عند عمَّار بن ياسر فأمَرَ بشاةٍ مَصْليَّةٍ، فقال: كُلُوا، فتنحَّى بعضُ القوم فقال: إنِّي صائم، فقال عمّار: مَن صامَ يومَ الشَّكِّ فقد عَصَى أبا القاسم ﷺ (2).
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
صلہ بن زفر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انہوں نے بھنی ہوئی بکری لانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”کھاؤ“، تو مجمع میں سے کچھ لوگ پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ ہم روزے سے ہیں، اس پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے شک والے دن روزہ رکھا، اس نے یقیناً ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبدُ الله بن محمد بن شاكر، حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا زائدة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكرِمة، عن ابن عباسٍ قال: جاء أعرابيٌّ إلى النبي ﷺ فقال: إِنِّي رأيتُ الهلال - يعني هلالَ رمضان - فقال: "أتشهدُ أن لا إلهَ إِلَّا الله؟ " قال: نعم، قال: "أتشهدُ أنَّ محمدًا رسولُ الله؟ " قال: نعم، قال: "يا بلالُ، أذِّن في الناس أن يَصُوموا غدًا" (1). تابعه سفيانُ الثَّوريُّ وحمَّاد بن سَلَمة عن سِمَاك بن حرب. أما حديث الثوري:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے چاند یعنی رمضان کا چاند دیکھ لیا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔“
امام سفیان ثوری اور حماد بن سلمہ نے سماک بن حرب سے اس کی متابعت کی ہے۔
امام سفیان ثوری اور حماد بن سلمہ نے سماک بن حرب سے اس کی متابعت کی ہے۔
فحدَّثَناه عبد الباقي بن قانِع الحافظ، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمَري، حدثنا محمد بن بكَّار العَيْشي (2)، حدثنا أبو عاصم، عن سفيان، عن سِمَاك، عن عِكْرِمة، عن ابن عباسٍ قال: جاء رجلٌ أعرابيٌّ ليلةَ هلالِ رمضان، فقال: يا رسول الله، إنِّي قد رأيتُ الهلال، فقال: "تشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وتشهدُ أنَّ محمدًا رسولُ الله؟ " قال: نعم، قال: "فنادِ في الناس أن يَصُوموا" (3). وهكذا رواه الفضل بن موسى عن سفيان الثوري:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رمضان کے چاند کی رات ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے چاند دیکھ لیا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر لوگوں میں پکار دو کہ وہ روزہ رکھیں۔“
اسی طرح فضل بن موسیٰ نے سفیان ثوری سے اسے روایت کیا ہے۔
اسی طرح فضل بن موسیٰ نے سفیان ثوری سے اسے روایت کیا ہے۔
أخبرَناه الحسن بن حَلِيم، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا الفضل بن موسى، حدثنا سفيان الثَّوري، عن سِمَاك، عن عِكْرِمة، عن ابن عباس قال: جاء أعرابيٌّ ليلةَ هلالِ رمضان، فقال: يا رسولَ الله، قد رأيتُ الهلال، فقال: "أتشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأني رسولُ الله؟ " قال: نعم، قال: "فنادِ أن يَصُوموا" (1). أما حديث حماد بن سَلَمة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رمضان کے چاند کی رات ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے چاند دیکھ لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس اعلان کر دو کہ لوگ روزہ رکھیں۔“
فأخبرَناه أحمد بن محمد بن سَلَمَة العَنَزي، عن عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنهم شَكُّوا في هلال رمضان، فأرادوا أن لا يَقومُوا ولا يَصومُوا، فجاء أعرابيٌّ من الحَرّةِ فشَهِدَ أنه رأى الهلال، فأمرَ النبيُّ ﷺ بلالًا فنادى في الناس: أن يقوموا ويصوموا (2). قد احتجَّ البخاريُّ بأحاديث عكرمة، واحتجَّ مسلمٌ بأحاديث سِمَاك بن حرب وحمّاد بن سَلَمة، وهذا الحديث صحيح، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں کو رمضان کے چاند کے متعلق شک ہوا اور انہوں نے ارادہ کیا کہ (ثبوت نہ ہونے کی بنا پر) نہ تو قیام کریں گے اور نہ ہی روزہ رکھیں گے، اتنے میں حرہ کے علاقے سے ایک اعرابی آیا اور اس نے گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں پکار کر اعلان کیا کہ وہ قیام بھی کریں اور روزہ بھی رکھیں۔
امام بخاری نے عکرمہ کی احادیث سے استدلال کیا ہے اور امام مسلم نے سماک بن حرب اور حماد بن سلمہ کی احادیث سے، اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام بخاری نے عکرمہ کی احادیث سے استدلال کیا ہے اور امام مسلم نے سماک بن حرب اور حماد بن سلمہ کی احادیث سے، اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقاشي، حدثنا أبو غسان يحيى بن كَثِير العَنْبَري، حدثنا شعبة، عن سِمَاك قال: دخلتُ على عِكرِمةَ في اليوم الذي يُشَكُّ فيه من رمضان وهو يأكل، فقال: ادْنُ فكُلْ، قلت: إنِّي صائم، قال: واللهِ لَتدنُوَنَّ، قلت: فحدِّثْني، قال: حدَّثَني ابن عباسٍ، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا تَستقبِلوا الشَّهرَ استِقبالًا، صُومُوا لِرُؤيتِهِ، وأفطِرُوا لِرُؤيتِه، فإن حالَ بينَكم وبينَ مَنظَرِه سحابةٌ أو قَتَرةٌ، فأكمِلُوا العِدّةَ ثلاثين" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
حافظ طلحہ بابر
سماک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں رمضان کے شک والے دن عکرمہ رحمہ اللہ کے پاس گیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے کہا: ”قریب آؤ اور کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: ”میں روزے سے ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تمہیں قریب آ کر کھانا ہی پڑے گا۔“ میں نے کہا: ”تو پھر مجھے کوئی حدیث سنائیے۔“ انہوں نے کہا: ”مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مہینے کا پیشگی استقبال نہ کرو، بلکہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو، پھر اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل یا غبار حائل ہو جائے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔