حدیث نمبر: 1557
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبدُ الله بن محمد بن شاكر، حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا زائدة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكرِمة، عن ابن عباسٍ قال: جاء أعرابيٌّ إلى النبي ﷺ فقال: إِنِّي رأيتُ الهلال - يعني هلالَ رمضان - فقال: "أتشهدُ أن لا إلهَ إِلَّا الله؟ " قال: نعم، قال: "أتشهدُ أنَّ محمدًا رسولُ الله؟ " قال: نعم، قال: "يا بلالُ، أذِّن في الناس أن يَصُوموا غدًا" (1). تابعه سفيانُ الثَّوريُّ وحمَّاد بن سَلَمة عن سِمَاك بن حرب. أما حديث الثوري:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے چاند یعنی رمضان کا چاند دیکھ لیا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔“
امام سفیان ثوری اور حماد بن سلمہ نے سماک بن حرب سے اس کی متابعت کی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1557
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنَّ في بعض روايات سماك عن عكرمة اضطرابًا، وقد اختُلف عليه في هذا الحديث، فرواه بعضهم مرسلًا وبعضهم موصولًا، ورجَّح الأكثر المرسل، إلَّا أنَّ له شاهدًا من حديث ابن عمر سلف قبلُ بحديثين. زائدة: هو ابن قدامة.» [ترقيم الرساله 1557] [ترقيم الشركة 1548]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنَّ في بعض روايات سماك عن عكرمة اضطرابًا، وقد اختُلف عليه في هذا الحديث، فرواه بعضهم مرسلًا وبعضهم موصولًا، ورجَّح الأكثر المرسل، إلَّا أنَّ له شاهدًا من حديث ابن عمر سلف قبلُ بحديثين. زائدة: هو ابن قدامة.
درجۂ حدیث: اپنے شواہد کی بنا پر حسن (حسن لغیرہ) ہے، اگرچہ سماک عن عکرمہ کی بعض روایات میں اضطراب ہے اور اس کے متصل یا مرسل ہونے میں اختلاف ہے (اکثر نے مرسل کو ترجیح دی ہے)، متابعات و شواہد: تاہم اس کا شاہد ابن عمر ؓ کی وہ حدیث ہے جو دو نمبر پہلے گزر چکی ہے۔
راوی پر جرح: زائدہ سے مراد ابن قدامہ ہیں۔
وقد سلف الحديث من طريق معاوية بن عمرو عن زائدة بن قدامة برقم (1116)، وسلف تخريجه هناك.
حوالہ / مصدر: یہ حدیث پیچھے (رقم 1116) پر زائدہ بن قدامہ کے طریق سے گزر چکی ہے اور اس کی تخریج وہیں موجود ہے۔
أما طريق الحسين بن علي الجعفي هذه فقد أخرجها من طرق عنه: أبو داود (2340)، والترمذي (691 م)، والنسائي (2433)، وابن حبان (3446).
حوالہ / مصدر: حسین بن علی الجعفی کے اس طریق کو ابو داود (2340)، ترمذی (691)، نسائی (2433) اور ابن حبان (3446) نے روایت کیا ہے۔
وانظر الأحاديث الثلاثة التالية.
توضیح: اس کے بعد والی تین احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1557 سے ماخوذ ہے۔