المستدرك على الصحيحين
كتاب الصوم— روزوں کا بیان
قَبُولُ شَهَادَةِ الْوَاحِدِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ باب: رمضان کا چاند دیکھنے میں ایک شخص کی گواہی قبول کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1555
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني يحيى بن عبد الله بن سالم، عن أبي بكر بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر، قال: تَراءَى الناسُ الهلالَ، فأَخبرتُ رسولَ الله ﷺ أني رأيتُه، فصامَ رسولُ الله ﷺ وَأَمَرَ الناسَ بالصِّيام (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھ لیا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزے رکھنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. نافع والد أبي بكر بن نافع: هو المدني مولى عبد الله بن عمر.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: نافع (ابوبکر بن نافع کے والد) مدنی ہیں اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2342)، وابن حبان (3447) من طريق مروان بن محمد، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2342) اور ابن حبان (3447) نے مروان بن محمد عن عبداللہ بن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: نافع (ابوبکر بن نافع کے والد) مدنی ہیں اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2342)، وابن حبان (3447) من طريق مروان بن محمد، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2342) اور ابن حبان (3447) نے مروان بن محمد عن عبداللہ بن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1555 سے ماخوذ ہے۔