کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ہر شخص قیامت کے دن اپنی صدقہ کے سائے میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، حدثنا حَرْمَلَة بن عمران، أنه سَمِع يزيد بن أبي حَبِيب يحدِّث، أنَّ أبا الخير حدَّثه، أنه سمع عقبةَ بن عامر يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "كلُّ امرئٍ في ظلِّ صدقته حتى يُفصَلَ بين الناس" أو قال: "حتى يُحكَمَ بين الناس". قال يزيد: وكان أبو الخير لا يُخطِئُه يومٌ لا يتصدقُ فيه بشيءٍ ولو كعكةً ولو بَصَلةً (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہر شخص (قیامت کے دن) اپنے صدقے کے سائے تلے ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“، یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں کہ (اس حدیث کے راوی) ابوالخیر کا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں وہ کوئی چیز صدقہ نہ کرتے ہوں، خواہ وہ ایک کیک (روٹی کا ٹکڑا) ہو یا ایک پیاز ہی کیوں نہ ہو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضْر بن شُمَيل، عن [أبي] (2) قُرَّة قال: سمعتُ سعيد بن المسيّب يحدِّث عن عمر بن الخطّاب قال: ذُكِر لي أنَّ الأعمال تَباهَى، فتقول الصَّدقةُ: أنا أفضَلُكم (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ (قیامت کے دن) اعمال ایک دوسرے پر فخر کریں گے، تو صدقہ کہے گا: میں تم سب میں افضل ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔