أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا سعيد، عن قَتَادةَ، عن سالم بن أبي الجَعْد الغَطَفاني، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعمَري، عن ثَوْبان قال: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن تَرَكَ بعدَه كَنزًا، مُثِّل له يومَ القيامة شُجاعًا أقرَعَ له زَبِيبتان، يَتْبَعُ فَاهُ، فيقول: وَيلَكَ ما لكَ؟ فيقول: أنا كنزُك الذي تَركتَه بعدَك، فلا يزال يَتبعُه حتى يُلْقِمَه يدَه فيَقْضَمُها، ثم يُتبِعُه سائرَ جسدِه" (1).
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطه أيضًا:
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطه أيضًا:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے پیچھے کنز (ایسا خزانہ جس کی زکوٰۃ نہ دی ہو) چھوڑا، قیامت کے دن وہ اس کے لیے ایک نہایت زہریلے اور گنجے سانپ کی شکل میں پیش کیا جائے گا جس کی آنکھوں کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اس کے منہ کا پیچھا کرے گا، بندہ کہے گا: ہائے تیرا برا ہو تو کیا چیز ہے؟ وہ جواب دے گا: میں وہی تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا، وہ مسلسل اس کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دے گا اور وہ اسے چبا ڈالے گا، پھر وہ اس کے باقی جسم کو بھی نگل جائے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی ان کی شرط پر موجود ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی ان کی شرط پر موجود ہے:
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو صالح وابنُ بُكَير، قالا: حدثنا الليث، عن ابن عَجْلان، عن القَعْقاع بن حَكِيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال: "يكون كنزُ أحدِكم يومَ القيامةِ شُجاعًا أقرَعَ ذا زَبِيبَتَين، يَتبَعُ صاحبَه، وهو يتعوَّذُ منه، فلا يَزالُ يَتبَعُه وهو يَفِرُّ منه حتى يُلقِمَه إصبَعَه" (2). قد اتّفقَ الشيخان على إخراج حديث ابن مسعود وابن عُمَر في هذا الباب على سبيل الاختصار، في التغليظ المانع من الزكاة، غيرَ أنهما لم يخرجا حديث أبي هريرة وثَوْبان (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن تم میں سے کسی کا (وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو) ایک گنجے سانپ کی شکل میں ظاہر ہوگا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نشان ہوں گے، وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا، مالک اس سے پناہ مانگے گا لیکن وہ مسلسل اس کے پیچھے رہے گا یہاں تک کہ جب مالک بھاگتے ہوئے تھک جائے گا تو وہ سانپ اس کی انگلی کو لقمہ بنا لے گا۔“
امام بخاری اور امام مسلم نے اس باب میں سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم کی احادیث تو اختصار کے ساتھ (زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعید کے طور پر) روایت کی ہیں، لیکن انہوں نے سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہما کی یہ مخصوص حدیث روایت نہیں کی۔
امام بخاری اور امام مسلم نے اس باب میں سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم کی احادیث تو اختصار کے ساتھ (زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعید کے طور پر) روایت کی ہیں، لیکن انہوں نے سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہما کی یہ مخصوص حدیث روایت نہیں کی۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْرُ بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني معاوية بن صالح، عن أبي يحيى سُلَيم بن عامر الكَلَاعي، قال: سمعتُ أبا أُمامةَ يقول: قام رسولُ الله ﷺ فينا في حَجَّةِ الوداع وهو على ناقتِه الجَدْعاء، قد جَعَلَ رِجلَيه في غَرْزَي الرِّكاب، يَتَطاوَل ليُسمِعَ الناس، فقال: "ألا تَسْمَعُون صوتي؟ "، فقال رجلٌ من طوائف الناس: فما تَعهَدُ إلينا؟ فقال: "اعبُدوا ربَّكم، وصَلُّوا خَمْسَكم، وصُومُوا شهرَكم، وأدُّوا زكاةَ أموالِكم، وأَطِيعُوا ذا أَمرِكم، تدخُلُوا جنَّةَ ربِّكم". قال: قلتُ: يا أبا أمامة، فمِثلُ مَن أنتَ يومئذٍ؟ قال: أنا يا ابنَ أخي يومئذٍ ابنُ ثلاثين سنةً، أُزاحِمُ البعيرَ أُزَحزِحُه قُربًا إلى رسول الله ﷺ (1).
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سلیم بن عامر کلاعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی ”جدعاء“ پر سوار ہو کر ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں رکاب میں ڈالے ہوئے تھے اور آواز بلند فرما رہے تھے تاکہ تمام لوگ سن سکیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم میری آواز سن رہے ہو؟“ تو مجمع میں سے ایک شخص نے عرض کیا: (جی ہاں) آپ ہمیں کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نمازیں پڑھو، (رمضان کے) مہینے کے روزے رکھو، اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے ابوامامہ! اس دن آپ کی عمر کتنی تھی؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں اس وقت تیس سال کا تھا اور میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ہونے کے لیے (لوگوں کے) اونٹوں کے درمیان سے جگہ بناتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عمرو بن الرَّبِيع بن طارق، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا عُبيد الله بن أبي جعفر، أنَّ محمد بن عمرو بن عطاء أخبره، عن عبد الله بن شداد بن الهاد قال: دخلنا على عائشةَ زوجِ النبي ﷺ، فقالت: دَخَلَ عليَّ رسولُ الله ﷺ فرأى في يدي سِخابًا من وَرِقٍ، فقال: "ما هذا يا عائشةُ؟ " فقلت: صَنَعتُهنَّ أتزيَّنُ لك فيهنَّ يا رسول الله، فقال: "أتؤدِّين زكاتَهنَّ؟ " فقلتُ: لا، أو ما شاء الله من ذلك، قال: "هي حَسْبُكِ من النار" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن شداد بن ہاد بیان کرتے ہیں کہ ہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میرے ہاتھ میں چاندی کے کچھ موٹے کڑے (سِخاب) دیکھے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ آپ کے لیے سنگھار کرنے کی خاطر بنوائے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟“ میں نے عرض کیا: نہیں (یا جو اللہ نے چاہا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہ تمہیں آگ میں لے جانے کے لیے کافی ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتْبةَ أحمدُ بن الفَرَج، حدثنا عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار، حدثنا محمد بن مُهاجِر، عن ثابت بن عَجْلان، حدثنا عطاء، عن أُم سَلَمة: أنها كانت تَلبَس أَوْضاحًا من ذهب، فسألَتْ عن ذلك النبيَّ ﷺ فقالت: أكَنزٌ هو؟ فقال: "إذا أدَّيتِ زكاتَه، فليسَ بكَنْز" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ سونے کے زیورات (اوضاح) پہنا کرتی تھیں، انہوں نے اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا یہ ”کنز“ (وہ ممنوعہ خزانہ جس پر وعید آئی ہے) کے حکم میں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس مال کی تم زکوٰۃ ادا کر دو، وہ ”کنز“ (خزانہ) نہیں رہتا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الحسن بن المُهاجِر، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبير، عن جابر بن عبد الله، عن النبي ﷺ قال: "إذا أدّيتَ زكاةَ مالِكَ، فقد أذهبتَ عنكَ شرَّه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده صحيحٌ من حديث المِصْريِّين:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده صحيحٌ من حديث المِصْريِّين:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی تو تم نے اس مال کا شر (برائی) اپنے آپ سے دور کر دیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اہل مصر کی روایت سے اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی موجود ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اہل مصر کی روایت سے اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی موجود ہے: