حدیث نمبر: 1453
أخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عمرو بن الرَّبِيع بن طارق، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا عُبيد الله بن أبي جعفر، أنَّ محمد بن عمرو بن عطاء أخبره، عن عبد الله بن شداد بن الهاد قال: دخلنا على عائشةَ زوجِ النبي ﷺ، فقالت: دَخَلَ عليَّ رسولُ الله ﷺ فرأى في يدي سِخابًا من وَرِقٍ، فقال: "ما هذا يا عائشةُ؟ " فقلت: صَنَعتُهنَّ أتزيَّنُ لك فيهنَّ يا رسول الله، فقال: "أتؤدِّين زكاتَهنَّ؟ " فقلتُ: لا، أو ما شاء الله من ذلك، قال: "هي حَسْبُكِ من النار" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن شداد بن ہاد بیان کرتے ہیں کہ ہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میرے ہاتھ میں چاندی کے کچھ موٹے کڑے (سِخاب) دیکھے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ آپ کے لیے سنگھار کرنے کی خاطر بنوائے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟“ میں نے عرض کیا: نہیں (یا جو اللہ نے چاہا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہ تمہیں آگ میں لے جانے کے لیے کافی ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الزكاة / حدیث: 1453
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، يحيى بن أيوب صدوق حسن الحديث.» [ترقيم الرساله 1453] [ترقيم الشركة 1441]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن، يحيى بن أيوب صدوق حسن الحديث.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند حسن ہے؛ یحییٰ بن ایوب صدوق اور حسن الحدیث راوی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1565) عن أبي حاتم الرازي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1565) نے ابوحاکم الرازی کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قولها: سخابًا من وَرِق، قال النووي في "شرح مسلم" 15/ 193: السِّخاب بكسر السين المهملة وبالخاء المعجمة، جمعُه سُخُب، وهو قلادة من القرنفل والمسك والعود ونحوها من أخلاط الطيب، يُعمَل على هيئة السُّبحة ويُجعَل قلادة للصبيان والجواري. وقيل: هو خيط فيه خرز، سُمي سخابًا لصوت خرزه عند حركته.

وقال الأزهري كما في "شرح القاموس" مادة (سخب): السِّخاب عند العرب: كُلُّ قلادةٍ، كانت ذات جوهر أو لم تكن. قلنا: وعليه يتوجه أنَّ السِّخاب الذي في يد عائشة من وَرِق، على أنه وقع في رواية أبي داود وغيره: "فتخات من ورق" بمعنى خواتيم، ولا إشكال فيها.

(توضیح): حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول "سخابًا من وَرِق" (چاندی کا ہار)؛ امام نووی کے مطابق "سخاب" لونگ، مشک اور عود سے بنا وہ ہار ہے جو بچوں اور بچیوں کو پہنایا جاتا ہے، اور اس روایت میں چاندی کے ہار یا انگوٹھیوں کا ذکر ہے۔ ابوداؤد کی روایت میں "فتخات من ورق" (چاندی کے چھلے) کے الفاظ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1453 سے ماخوذ ہے۔