المستدرك على الصحيحين
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
التَّغْلِيظُ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ باب: زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعید کا بیان۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْرُ بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني معاوية بن صالح، عن أبي يحيى سُلَيم بن عامر الكَلَاعي، قال: سمعتُ أبا أُمامةَ يقول: قام رسولُ الله ﷺ فينا في حَجَّةِ الوداع وهو على ناقتِه الجَدْعاء، قد جَعَلَ رِجلَيه في غَرْزَي الرِّكاب، يَتَطاوَل ليُسمِعَ الناس، فقال: "ألا تَسْمَعُون صوتي؟ "، فقال رجلٌ من طوائف الناس: فما تَعهَدُ إلينا؟ فقال: "اعبُدوا ربَّكم، وصَلُّوا خَمْسَكم، وصُومُوا شهرَكم، وأدُّوا زكاةَ أموالِكم، وأَطِيعُوا ذا أَمرِكم، تدخُلُوا جنَّةَ ربِّكم". قال: قلتُ: يا أبا أمامة، فمِثلُ مَن أنتَ يومئذٍ؟ قال: أنا يا ابنَ أخي يومئذٍ ابنُ ثلاثين سنةً، أُزاحِمُ البعيرَ أُزَحزِحُه قُربًا إلى رسول الله ﷺ (1).
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سلیم بن عامر کلاعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی ”جدعاء“ پر سوار ہو کر ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں رکاب میں ڈالے ہوئے تھے اور آواز بلند فرما رہے تھے تاکہ تمام لوگ سن سکیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم میری آواز سن رہے ہو؟“ تو مجمع میں سے ایک شخص نے عرض کیا: (جی ہاں) آپ ہمیں کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نمازیں پڑھو، (رمضان کے) مہینے کے روزے رکھو، اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے ابوامامہ! اس دن آپ کی عمر کتنی تھی؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں اس وقت تیس سال کا تھا اور میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ہونے کے لیے (لوگوں کے) اونٹوں کے درمیان سے جگہ بناتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وسيأتي من طريق زيد بن الحباب عن معاوية بن صالح برقم (1759)، ويأتي تخريجه من هذه الطريق هناك.
تکرار: یہ آگے نمبر (1759) پر زید بن الحباب عن معاویہ بن صالح کی سند سے دوبارہ آئے گی۔
وسلف من طريق سعيد بن أبي مريم عن معاوية بن صالح برقم (19).
تکرار: یہ پہلے نمبر (19) پر سعید بن ابی مریم کی سند سے گزر چکی ہے۔