حدیث نمبر: 1417
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا أصْبَغ بن الفَرَج المِصري، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، أنَّ خارجة بن زيد أخبره، أنَّ أُمَّ العلاء - امرأةً من الأنصار قد بايَعَتْ رسول الله ﷺ أخبرته: أنهم اقتَسَموا المهاجرين (1) قُرْعةً، فطارَ لنا عثمانُ بن مَظعُون، فأنزلْناه في أبياتنا، فوَجِعَ وَجَعَه الذي مات فيه، فلما تُوفِّي غُسِّل وكُفِّن في أثوابه، دَخَلَ رسولُ الله ﷺ فقلت: يا عثمانُ بنَ مظعونٍ، رحمةُ الله عليكَ أبا السائب، فشهادتي عليك لقد أكرَمَكَ الله، فقال رسولُ الله ﷺ: "وما يُدريكِ أنَّ الله أكرَمَه؟ " فقالت: بأبي أنتَ وأمي يا رسول الله، فمَنْ؟ فقال رسولُ الله ﷺ: "أمّا هو فقد جاءَه اليقينُ، فوالله إنِّي لأرجو له الخير، واللهِ ما أَدري وأنا رسولُ الله ماذا يُفعَلُ بي" قالت: فواللهِ ما أُزكِّي بعدَه أحدًا أبدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!.
حافظ طلحہ بابر

ام العلاء رضی اللہ عنہا - جو ایک انصاری خاتون ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی - بیان کرتی ہیں کہ جب انصار نے مہاجرین کو ٹھہرانے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارے حصے میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، ہم نے انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرایا، پھر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں ان کا انتقال ہو گیا۔ جب وہ فوت ہو گئے، انہیں غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں میں کفنایا گیا تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ میں نے کہا: ”اے عثمان بن مظعون! تم پر اللہ کی رحمت ہو اے ابوسائب، میری تمہارے بارے میں گواہی ہے کہ یقیناً اللہ نے تمہیں معزز فرمایا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے انہیں معزز فرمایا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر اور کون ہوگا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تو ان کے پاس یقین (موت) آ چکا ہے، بخدا! میں ان کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہو کر بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“ ام العلاء کہتی ہیں: ”بخدا! میں اس کے بعد کبھی کسی کی پاکیزگی (حتمی طور پر) بیان نہیں کروں گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1417
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1417] [ترقيم الشركة 1405]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: للمهاجرين، والمثبت من مصادر التخريج، وهو أوجه.
فنی نکتہ: (1) نسخوں میں "للمهاجرين" تھا، درست "للمؤمنين" (مؤمنوں کے لیے) ہے۔
(1) إسناده صحيح. يونس: هو ابن يزيد الأيلي، وابن شهاب: هو محمد بن مسلم الزهري. وأخرجه أحمد 45/ (27457)، والبخاري (1243) و (2687) و (3929) و (7003) و (7004) من طرق عن ابن شهاب الزهري، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ یونس ایلی اور امام زہری اس کے راوی ہیں۔ اسے احمد، بخاری (1243 وغیرہ) نے روایت کیا ہے۔ حاکم کا استدراک یہاں بھی ان کا سہو ہے۔
وسيأتي من طريق معمر عن الزهري برقم (3738).
تکرار: یہ آگے معمر عن الزہری کے طریق سے نمبر (3738) پر آئے گی۔
وأخرج أحمد 45/ (27459) من طريق سالم أبي النضر، عن خارجة بن زيد، عن أمه قالت: إنَّ عثمان بن مظعون لما قبض، قالت أم خارجة بنت زيد: طبت أبا السائب، فذكره بنحوه. وقد رجَّح الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 8/ 439 أن تكون أمه هي نفسها أم العلاء الأنصارية المذكورة في رواية الزهري عن خارجة، وقال: فلا يلزم من كونه أَبهمها في رواية الزهري أن تكون أخرى، فقد يبهم الإنسان نفسه فضلًا عن أمه.
متابعات و شواہد: احمد (27459/45) میں خارجہ بن زید کی اپنی والدہ سے روایت بھی اسی مفہوم میں ہے۔ حافظ ابن حجر کے مطابق یہ ام العلاء ہی ہیں۔
وفي الباب عن ابن عباس سيأتي عند المصنف برقم (4930).
تکرار: اس باب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت آگے نمبر (4930) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1417 سے ماخوذ ہے۔