المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
دَلَالَةُ الْعَمَلِ الَّذِي تُسْتَحَقُّ بِهِ الْجَنَّةُ باب: اس عمل کی رہنمائی جس کے ذریعے جنت کی مستحق ٹھہرا جاتا ہے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد الصَّنعاني، أخبرنا عبد الرزاق. وحدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني إملاءً، حدثنا أحمد بن نَجْدةَ القُرَشي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني ابن طاووس، عن أبيه: أنه كان يقول بعد التشهد كلماتٍ كان يُعظِّمهنَّ جدًّا، قلت: في الثَّنتين كلاهما؟ قال: بل في المثنَّى الآخِر بعد التشهد، قلت: ما هو؟ قال: "أعوذُ بالله من عذاب جهنم، وأعوذُ بالله من شَرِّ المسيح الدَّجّال، وأعوذُ بالله من عذاب القبر، وأعوذُ بالله من فتنة المَحْيا والمَمات"، قال: وكان يُعظِّمهنّ. قال ابن جريج: أخبَرَنيهِ عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن عائشة، عن النبي ﷺ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، في التعوُّذ من عذاب القبر، ولم يُخرجاه. وقد أمليتُ ما صحَّ على شرطهما في هذا الباب ممّا لم يُخرجاه في كتاب الإيمان، ولم أُمْلِ هذا الحديث.
طاؤس کے بیٹے (عبداللہ) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ تشہد کے بعد کچھ کلمات کہا کرتے تھے جنہیں وہ بہت اہمیت دیتے تھے۔ میں نے پوچھا: کیا دونوں (تشہد) میں؟ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ آخری تشہد کے بعد۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عذاب الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے شر سے، اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے۔“ وہ ان کلمات کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن طاؤس نے اپنے والد کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت بتائی۔
یہ حدیث قبر کے عذاب سے پناہ مانگنے کے بارے میں شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے کتاب الایمان میں اس باب میں وہ احادیث املاء کروائی تھیں جو ان کی شرط پر صحیح تھیں مگر انہوں نے روایت نہیں کی تھیں، لیکن یہ حدیث وہاں املاء نہیں کروائی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
وأخرجه أحمد 42/ (25648) عن عبد الرزاق الصنعاني، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ ابن جریج نے عبداللہ بن طاؤس سے سماع کی تصریح کی ہے، جس سے ابن معین کے اس قول کی تردید ہوتی ہے کہ ابن جریج کا ان سے سماع صرف ایک ہی حدیث میں ہے۔ اسے احمد (25648/42) نے بھی روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق عروة بن الزبير عن عائشة برقم (2007).
تکرار: یہ آگے عروہ عن عائشہ کے طریق سے نمبر (2007) پر آئے گی۔
وفي الباب عن أبي هريرة، سلف برقم (1024).
فنی نکتہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت نمبر (1024) پر گزر چکی ہے۔