حدَّثَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن السَّامي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا أبو معاوية، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبير، عن جابرٍ قال: نهى رسول الله ﷺ عن تَجصِيص القبور، والكتابِ فيها، والبناءِ عليها، والجلوسِ عليها (1). هذه الأسانيد صحيحةٌ وليس العملُ عليها، فإنَّ أئمّة المسلمين من الشرق إلى الغرب مكتوبٌ على قبورهم، وهو عملٌ أَخذ به الخَلَفُ عن السَّلف (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو پختہ کرنے، ان پر لکھنے، ان پر عمارت بنانے اور ان پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
یہ اسانید صحیح ہیں لیکن (عملی طور پر) ان پر عمل نہیں رہا، کیونکہ مشرق سے مغرب تک مسلمانوں کے ائمہ کی قبروں پر لکھا ہوا ہے، اور یہ وہ عمل ہے جسے بعد میں آنے والوں (خلف) نے پہلے والوں (سلف) سے اخذ کیا ہے۔
یہ اسانید صحیح ہیں لیکن (عملی طور پر) ان پر عمل نہیں رہا، کیونکہ مشرق سے مغرب تک مسلمانوں کے ائمہ کی قبروں پر لکھا ہوا ہے، اور یہ وہ عمل ہے جسے بعد میں آنے والوں (خلف) نے پہلے والوں (سلف) سے اخذ کیا ہے۔
أخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا بن أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع، عن الصَّلْت بن بَهْرام، عن الحارث بن وَهْب، عن الصُّنَابحيِّ قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تزال أُمتي - أو هذه الأمة - في مُسْكةٍ من دِينِها ما لم يَكِلُوا الجنائزَ إلى أهلها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان الصُّنابِحي هذا عبدَ الله، فإن كان عبدَ الرحمن بن عُسَيلة الصُّنابِحي (3) فإنه يُختَلف في سماعه من النبيِّ ﷺ، ولم يُخرجاه (4).
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان الصُّنابِحي هذا عبدَ الله، فإن كان عبدَ الرحمن بن عُسَيلة الصُّنابِحي (3) فإنه يُختَلف في سماعه من النبيِّ ﷺ، ولم يُخرجاه (4).
حافظ طلحہ بابر
صنابحی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت - یا یہ امت - اس وقت تک اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہے گی جب تک وہ جنازوں کو صرف ان کے گھر والوں کے حوالے نہیں کر دے گی (یعنی پوری برادری اور معاشرہ اس میں شریک رہے گا)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ یہ صنابحی ”عبداللہ“ ہوں، اور اگر یہ عبدالرحمن بن عسیلہ صنابحی ہیں تو ان کے نبی کریم ﷺ سے سماع میں اختلاف پایا جاتا ہے، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ یہ صنابحی ”عبداللہ“ ہوں، اور اگر یہ عبدالرحمن بن عسیلہ صنابحی ہیں تو ان کے نبی کریم ﷺ سے سماع میں اختلاف پایا جاتا ہے، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔