حدیث نمبر: 1386
حدَّثَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن السَّامي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا أبو معاوية، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبير، عن جابرٍ قال: نهى رسول الله ﷺ عن تَجصِيص القبور، والكتابِ فيها، والبناءِ عليها، والجلوسِ عليها (1). هذه الأسانيد صحيحةٌ وليس العملُ عليها، فإنَّ أئمّة المسلمين من الشرق إلى الغرب مكتوبٌ على قبورهم، وهو عملٌ أَخذ به الخَلَفُ عن السَّلف (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو پختہ کرنے، ان پر لکھنے، ان پر عمارت بنانے اور ان پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
یہ اسانید صحیح ہیں لیکن (عملی طور پر) ان پر عمل نہیں رہا، کیونکہ مشرق سے مغرب تک مسلمانوں کے ائمہ کی قبروں پر لکھا ہوا ہے، اور یہ وہ عمل ہے جسے بعد میں آنے والوں (خلف) نے پہلے والوں (سلف) سے اخذ کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1386
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،كسابقه. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، وأخرجه ابن حبان (3164) من طريق إسحاق بن إبراهيم، عن أبي معاوية، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 1386] [ترقيم الشركة 1374]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح كسابقه. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.

وأخرجه ابن حبان (3164) من طريق إسحاق بن إبراهيم، عن أبي معاوية، بهذا الإسناد.

درجۂ حدیث: (1) پچھلی روایت کی طرح اس کی سند بھی صحیح ہے۔ ابومعاویہ سے مراد محمد بن خازم الضریر ہیں۔ اسے ابن حبان نے بھی روایت کیا ہے۔
(1) تعقبه الذهبي في "التلخيص" بقوله: ما قلتَ طائلًا، ولا نعلم صحابيًا فعل ذلك، وإنما هو شيء أحدثه بعض التابعين فمن بعدهم، ولم يبلغهم النهي.
علّت / فنی نکتہ: (1) علامہ ذہبی نے تلخیص میں حاکم پر تعاقب کرتے ہوئے فرمایا کہ: "آپ کی بات بے وزن ہے، کسی صحابی سے (قبر پر لکھنے کا) عمل ثابت نہیں، یہ بعد کے لوگوں کی ایجاد ہے جنہیں ممانعت نہیں پہنچی تھی"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1386 سے ماخوذ ہے۔