المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
فَضِيلَةُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ باب: ذکرِ الٰہی میں آواز بلند کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1378
أخبرَناه علي بن عيسى، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا إبراهيم بن نَصْر، حدثنا أبو أحمد الزُّبَيري، حدثنا محمد بن مُسلِم الطائفي، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله قال: رأيتُ نارًا في المقابر، فأَتيتُهم فإذا رسولُ الله ﷺ في القبر وهو يقول: "ناوِلُوني صاحِبَكم" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسنادٍ مُعضَل:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے قبرستان میں آگ دیکھی، میں وہاں پہنچا تو رسول اللہ ﷺ قبر میں تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے: ”اپنے ساتھی کو میرے حوالے کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک معضل سند کے ساتھ شاہد حدیث بھی موجود ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن كالذي قبله.
درجۂ حدیث: (3) پچھلی روایت کی طرح سند حسن ہے۔
درجۂ حدیث: (3) پچھلی روایت کی طرح سند حسن ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1378 سے ماخوذ ہے۔