المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
فَضِيلَةُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ باب: ذکرِ الٰہی میں آواز بلند کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1377
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الحميد أبو جعفر الحارثي، حدثنا إسحاق بن منصور السَّلُولي، حدثنا محمد بن مُسلِم الطائفي، عن عمرو بن دينار، عن جابر: أنَّ رجلًا كان يَرفَع صوتَه بالذِّكر، فقال رجل: لو أنَّ هذا خَفَضَ من صوتِه، فقال رسول الله ﷺ: "فإنَّه أوّاهٌ". قال: فمات، فرأى رجلٌ نارًا في قبره، فأتاه، فإذا رسولُ الله ﷺ فيه وهو يقول: "هَلُمُّوا صاحِبَكم"، فإذا هو الرجلُ الذي كان يَرفَع صوته بالذِّكْر (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بلند آواز سے ذکر کر رہا تھا، کسی نے کہا: کاش یہ اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لیتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کہو، یہ تو اللہ کے حضور بہت آہ و زاری کرنے والا (اوّاہ) ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص فوت ہو گیا، ایک آدمی نے اس کی قبر میں «نارًا» (روشنی) دیکھی، وہ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ قبر کے اندر موجود ہیں اور فرما رہے ہیں: ”اپنے ساتھی کو میرے قریب کرو“، دیکھا تو وہ وہی شخص تھا جو بلند آواز سے ذکر کیا کرتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن مسلم الطائفي.
درجۂ حدیث: (2) محمد بن مسلم الطائفی کی وجہ سے سند حسن ہے۔
وسيأتي من وجهين آخرين عن محمد بن مسلم الطائفي فيما بعده، وبرقم (3358).
تکرار: یہ آگے محمد بن مسلم کے دو طریقوں سے نمبر (3358) پر آئے گی۔
درجۂ حدیث: (2) محمد بن مسلم الطائفی کی وجہ سے سند حسن ہے۔
وسيأتي من وجهين آخرين عن محمد بن مسلم الطائفي فيما بعده، وبرقم (3358).
تکرار: یہ آگے محمد بن مسلم کے دو طریقوں سے نمبر (3358) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1377 سے ماخوذ ہے۔