کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: رسولُ اللہ ﷺ جب جنازہ دیکھتے تو اس کے گزر جانے تک کھڑے رہتے تھے۔
أخبرني أبو أحمد بن أبي الحسن الدَّارِمي، حدثنا محمد بن سليمان بن فارس، حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابن أبي فُدَيك، أخبرنا ابن أبي ذِئب، عن ابن شِهَاب، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا مرَّتْ به جنازةٌ وَقَفَ حتى تمُرَّ به (1).
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وليس هذا متنَ حديث ابن عمر عن عامر بن رَبِيعة، فإِنَّ ذلك المتنَ في تَشْييعِ الجنازة، وهذا في القيام للجنازة، على كثرة اختلاف الروايات فيه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے جب کوئی جنازہ گزرتا تو آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ سیدنا ابن عمر کی عامر بن ربیعہ سے مروی حدیث کا متن نہیں ہے، کیونکہ وہ متن جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں ہے جبکہ یہ جنازے کے لیے کھڑے ہونے کے متعلق ہے، باوجود اس کے کہ اس بارے میں روایات میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1334
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،محمد بن رافع: هو النيسابوري، وابن أبي فديك: هو محمد بن إسماعيل، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن، وابن شهاب: هو محمد بن مسلم الزهري.» [ترقيم الرساله 1334] [ترقيم الشركة 1322]
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب بن أحمد بن مِهْران الزَّاهد، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن أيوب المَقابِريّ الزَّاهد وأبو مُصعَب أحمد بنُ أبي بكر قالا: حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه: أنه شَهِدَ جنازةً صلَّى عليها مروان بن الحَكَم، فذهب أبو هريرة مع مروان حتى جَلَسا في المَقبُرة، فجاء أبو سعيد الخُدري، فقال لمروان: أرِني يدَكَ، فأعطاه يدَه، فقال: قُمْ، فقام، ثم قال مروان: لمَ أقمتَني؟ فقال: كان رسول الله ﷺ إذا رأى جنازةً قام حتى يُمَرَّ بها ويقول: "إنَّ الموتَ فَزَعٌ"، فقال مروان: أصَدَقَ يا أبا هريرة؟ قال: نعم، قال: فما مَنَعَك أن تُخبِرَني؟ قال: كنتَ إمامًا فجلستَ فجلستُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
حافظ طلحہ بابر
علاء بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک جنازے میں شریک تھے جس کی نمازِ جنازہ مروان بن حکم نے پڑھائی تھی، پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے ساتھ قبرستان چلے گئے اور وہ دونوں وہاں بیٹھ گئے، اتنے میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور مروان سے کہا: اپنا ہاتھ مجھے دیں، مروان نے اپنا ہاتھ دیا تو انہوں نے کہا: کھڑے ہو جائیے، چنانچہ مروان کھڑے ہو گئے، پھر مروان نے پوچھا: آپ نے مجھے کیوں کھڑا کیا؟ انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا اور آپ ﷺ فرماتے تھے: ”بے شک موت ایک گھبراہٹ (اور دہشت والی چیز) ہے۔“ مروان نے پوچھا: اے ابوہریرہ! کیا یہ سچ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، مروان نے کہا: پھر آپ کو مجھے بتانے سے کس چیز نے روکا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: آپ امام (حاکم) تھے، جب آپ بیٹھ گئے تو میں بھی بیٹھ گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1335
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عبد الرحمن والد العلاء: هو ابن يعقوب مولى الحُرْقة. وهو في "حديث إسماعيل بن جعفر" (304).» [ترقيم الرساله 1335] [ترقيم الشركة 1323]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرُو، حدثنا أبو بكر محمد بن عيسى الطَّرَسُوسي، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني رَبِيعةُ بن سَيف المَعافِري، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنه قال: سأل رجلٌ رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، تمرُّ بنا جنازةُ الكافر، فنقومُ لها؟ قال: "نَعَم، قُوموا لها، فإنكم لستُم تقومونَ لها، إنما تقومونَ إعظامًا للذي يَقبِضُ النفوسَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ گزرتا ہے تو کیا ہم اس کے لیے کھڑے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس کے لیے کھڑے ہو جایا کرو، کیونکہ تم اس (میت) کے لیے کھڑے نہیں ہوتے بلکہ اس ہستی کی عظمت و بڑائی کے لیے کھڑے ہوتے ہو جو روحیں قبض کرتی ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1336
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ربيعة بن سيف المعافري، قال البخاري وابن يونس: عنده مناكير، وضعفه الأزدي، والنسائي في "المجتبى" 4/ 27، وقال مرة ليس به بأس، وذكره ابن حبان في "الثقات" وقال: يخطئ كثيرًا. أبو عبد الرحمن الحبلي: هو عبد الله بن يزيد المعافري. وأخرجه أحمد 11/ (6573)، وابن ...» [ترقيم الرساله 1336] [ترقيم الشركة 1324]
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا أبو عمّار، حدثني النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا حمَاد بن سَلَمة، عن قتادة، عن أنس بن مالك: أنَّ جنازةَ يهوديٍّ مرَّتْ برسول الله ﷺ، فقام، فقالوا: يا رسول الله، إنها جنازة يهوديٍّ، فقال: "إنَّما قمتُ للملائكة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، غيرَ أنهما قد اتَّفقا على إخراج حديث عُبيد الله بن مِقْسَم عن جابر في القيام لجنازةِ اليهودي (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ ﷺ کھڑے ہو گئے، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو فرشتوں کی وجہ سے کھڑا ہوا ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے عبید اللہ بن مقسم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے ہونے والی حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1337
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري المروزي، وأبو عمار: هو الحسين بن حريث المروزي، وقتادة: هو ابن دعامة السدوسي.» [ترقيم الرساله 1337] [ترقيم الشركة 1325]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن عُبيد بن السَّبَّاق، عن أبي سعيد الخُدْري قال: كنا مَقْدَمَ النبيِّ ﷺ إذا حُضِر منا الميتُ آذَنَّا النبيَّ ﷺ، فحَضَرَه، واستغفر له، حتى إذا قدَّمنا (3) انصَرَفَ النبيُّ ﷺ ومَن معه، وربما قَعَدوا حتى يُدفَنَ، وربما طال حَبْسُ ذلك على نبيِّ الله ﷺ، فلمّا خَشِينا مشقةَ ذلك عليه، قال بعض القوم لبعض: لو كنَّا لا نُؤذِنُ النبيَّ ﷺ بأحدٍ حتى يُقبَضَ، فإذا قُبِض آذنَّاه، فلم يكن في ذلك مشقةٌ ولا حَبْس، فكنا نُؤذِنُه بالميت بعد أن يموت، فيأتيه فيُصلِّي عليه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ (مدینہ) تشریف لائے تو ہمارا طریقہ یہ تھا کہ جب ہم میں سے کوئی فوت ہوتا تو ہم آپ ﷺ کو اطلاع دیتے، آپ ﷺ تشریف لاتے اور اس کے لیے استغفار کرتے یہاں تک کہ جب تدفین ہو جاتی تو آپ ﷺ اور آپ کے ساتھی واپس لوٹتے، بسا اوقات آپ ﷺ کو دفن ہونے تک وہاں رکنا پڑتا جس میں طویل وقت لگ جاتا، جب ہمیں محسوس ہوا کہ اس سے نبی کریم ﷺ کو مشقت ہوتی ہے تو ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ جب تک کسی کی روح قبض نہ ہو جائے ہم آپ ﷺ کو اطلاع نہ دیں، اور جب روح قبض ہو جائے تب بتائیں تاکہ آپ ﷺ کو مشقت اور انتظار کی زحمت نہ ہو، چنانچہ پھر ہم کسی کے انتقال کے بعد آپ ﷺ کو اطلاع دیتے تو آپ تشریف لاتے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1338
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات غير فليح بن سليمان
تخریج حدیث «رجاله ثقات غير فليح بن سليمان، فقد تكلم بعض الأئمة في حفظه بما يحطه عن رتبة الصحيح، وقد بينا ذلك في تعليقنا على "المسند".» [ترقيم الرساله 1338] [ترقيم الشركة 1326]
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيانُ قال: ابن عَجْلان أخبرنا، أنه سَمِع سعيد بن أبي سعيد يقول: صلَّى ابن عباس على جنازةٍ، فَجَهَرَ بـ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ﴾، ثم قال: إِنما جَهَرْتُ لِتَعلَمُوا أنها سُنة (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم. وقد أجمعوا على أنَّ قول الصحابي: سُنَّة، حديثُ مُسنَد (3). وله شاهدٌ بإسنادٍ صحيح أخرجه البخاري:
حافظ طلحہ بابر
سعید بن ابی سعید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک جنازے کی نماز پڑھائی تو ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ﴾ (سورہ فاتحہ) بلند آواز سے پڑھی، پھر فرمایا: میں نے بلند آواز سے اس لیے پڑھا ہے تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ صحابی کا یہ کہنا کہ ”یہ سنت ہے“ حدیثِ مسند کے حکم میں ہوتا ہے۔ البتہ اس کی ایک شاہد حدیث صحیح سند کے ساتھ ہے جسے امام بخاری نے روایت کیا ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1339
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل ابن عجلان - وهو أبو عبد الله محمد بن عجلان القرشي - وقد توبع في الرواية الآتية بعده. ابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة.» [ترقيم الرساله 1339] [ترقيم الشركة 1327]