حدیث نمبر: 1337
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا أبو عمّار، حدثني النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا حمَاد بن سَلَمة، عن قتادة، عن أنس بن مالك: أنَّ جنازةَ يهوديٍّ مرَّتْ برسول الله ﷺ، فقام، فقالوا: يا رسول الله، إنها جنازة يهوديٍّ، فقال: "إنَّما قمتُ للملائكة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، غيرَ أنهما قد اتَّفقا على إخراج حديث عُبيد الله بن مِقْسَم عن جابر في القيام لجنازةِ اليهودي (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ ﷺ کھڑے ہو گئے، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو فرشتوں کی وجہ سے کھڑا ہوا ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے عبید اللہ بن مقسم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے ہونے والی حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1337
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري المروزي، وأبو عمار: هو الحسين بن حريث المروزي، وقتادة: هو ابن دعامة السدوسي.» [ترقيم الرساله 1337] [ترقيم الشركة 1325]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري المروزي، وأبو عمار: هو الحسين بن حريث المروزي، وقتادة: هو ابن دعامة السدوسي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوالعمار الحسین بن حریث اس کے ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه النسائي (2066) عن إسحاق بن راهويه، عن النضر بن شميل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (2066) نے اسحاق بن راہویہ عن النضر بن شمیل کی سند سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن أبي موسى الأشعري عند أحمد في "المسند" 32/ (19491)، وفي إسناده ليث بن أبي سليم وهو ضعيف.
درجۂ حدیث: اس باب میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت مسند احمد (19491/32) میں ہے مگر اس میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہے۔
(2) أخرجه البخاري (1311)، ومسلم (960) (78)، ولفظه: مرَّ بنا جنازة، فقام لها النبي ﷺ وقمنا، فقلنا: يا رسول الله، إنها جنازة يهودي، قال: "إذا رأيتم الجنازة فقوموا".
حوالہ / مصدر: (2) بخاری (1311) اور مسلم میں مروی ہے کہ ہمارے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ ﷺ کھڑے ہو گئے، ہم نے کہا: یہ تو یہودی ہے، فرمایا: "جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1337 سے ماخوذ ہے۔