أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن سَعْد (1) بن إبراهيم، عن طَلْحة بن عبد الله بن عَوْف قال: صلَّيتُ خلفَ ابن عباس على جنازةٍ، فسمعتُه يقرأ بفاتحة الكتاب، فلما انصَرَفَ أخذتُ بيدِه فسألتُه فقلت: تقرأُ؟ فقال: نعم، إنَّه حقٌّ وسُنّة (2). وله شاهدٌ مفسَّر من حديث إبراهيم بن أبي يحيى:
حافظ طلحہ بابر
طلحہ بن عبداللہ بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے جنازے کی نماز پڑھی تو میں نے انہیں سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر سوال کیا: کیا آپ نے (فاتحہ) پڑھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، یہ حق اور سنت ہے۔
اس کی ایک مفصل شاہد حدیث ابراہیم بن ابی یحییٰ کی روایت سے بھی مروی ہے:
اس کی ایک مفصل شاہد حدیث ابراہیم بن ابی یحییٰ کی روایت سے بھی مروی ہے:
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، حدثنا إبراهيم بن أبي يحيى، حدثنا عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابرٍ قال: كان رسول الله ﷺ يُكبِّر على جنائزِنا أربعًا، ويقرأُ بفاتحة الكتاب في التكبيرة الأُولى (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور پہلی تکبیر میں سورہ فاتحہ کی تلاوت فرماتے تھے۔