حدیث نمبر: 1335
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب بن أحمد بن مِهْران الزَّاهد، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن أيوب المَقابِريّ الزَّاهد وأبو مُصعَب أحمد بنُ أبي بكر قالا: حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه: أنه شَهِدَ جنازةً صلَّى عليها مروان بن الحَكَم، فذهب أبو هريرة مع مروان حتى جَلَسا في المَقبُرة، فجاء أبو سعيد الخُدري، فقال لمروان: أرِني يدَكَ، فأعطاه يدَه، فقال: قُمْ، فقام، ثم قال مروان: لمَ أقمتَني؟ فقال: كان رسول الله ﷺ إذا رأى جنازةً قام حتى يُمَرَّ بها ويقول: "إنَّ الموتَ فَزَعٌ"، فقال مروان: أصَدَقَ يا أبا هريرة؟ قال: نعم، قال: فما مَنَعَك أن تُخبِرَني؟ قال: كنتَ إمامًا فجلستَ فجلستُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
حافظ طلحہ بابر

علاء بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک جنازے میں شریک تھے جس کی نمازِ جنازہ مروان بن حکم نے پڑھائی تھی، پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے ساتھ قبرستان چلے گئے اور وہ دونوں وہاں بیٹھ گئے، اتنے میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور مروان سے کہا: اپنا ہاتھ مجھے دیں، مروان نے اپنا ہاتھ دیا تو انہوں نے کہا: کھڑے ہو جائیے، چنانچہ مروان کھڑے ہو گئے، پھر مروان نے پوچھا: آپ نے مجھے کیوں کھڑا کیا؟ انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا اور آپ ﷺ فرماتے تھے: ”بے شک موت ایک گھبراہٹ (اور دہشت والی چیز) ہے۔“ مروان نے پوچھا: اے ابوہریرہ! کیا یہ سچ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، مروان نے کہا: پھر آپ کو مجھے بتانے سے کس چیز نے روکا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: آپ امام (حاکم) تھے، جب آپ بیٹھ گئے تو میں بھی بیٹھ گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1335
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عبد الرحمن والد العلاء: هو ابن يعقوب مولى الحُرْقة. وهو في "حديث إسماعيل بن جعفر" (304).» [ترقيم الرساله 1335] [ترقيم الشركة 1323]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. عبد الرحمن والد العلاء: هو ابن يعقوب مولى الحُرْقة. وهو في "حديث إسماعيل بن جعفر" (304).
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ عبدالرحمن بن یعقوب اس کے ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه أبو يعلى (6455) عن يحيى بن أيوب وحده، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابویعلیٰ (6455) نے یحییٰ بن ایوب کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 18/ (11927)، والبخاري (1309) من طريق أبي سعيد المقبري قال: كنا في جنازة، فأخذ أبو هريرة بيد مروان فجلسا قبل أن توضع، فجاء أبو سعيد … فذكره.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1309) میں ابوسعید المقبری نے روایت کیا کہ ابوہریرہ، مروان کا ہاتھ پکڑ کر جنازہ رکھے جانے سے پہلے بیٹھ گئے، تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے انہیں ٹوکا۔
وانظر ما سلف برقم (1333).
فنی نکتہ: نمبر (1333) ملاحظہ فرمائیں۔
قوله: "فَزَعٌ"، أي: ذُعْرٌ، قال القرطبي - كما في "فتح الباري" لابن حجر 4/ 65 -: معناه: أنَّ الموت يُفزَع منه، إشارة إلى استعظامه. وقال غيره: جَعَلَ نفس الموت فزعًا مبالغةً، كما يقال: رجل عدلٌ. وقال البيضاوي: هو مصدر جرى مجرى الوصف للمبالغة، وفيه تقدير، أي: الموت ذو فزع.
(توضیح): "فَزَعٌ" کے معنی گھبراہٹ کے ہیں۔ قرطبی کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ موت سے گھبرانا چاہیے تاکہ اس کی عظمت کا احساس ہو۔ بیضاوی کے مطابق یہ مبالغہ ہے کہ موت بذاتِ خود ایک بڑی گھبراہٹ ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1335 سے ماخوذ ہے۔