المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
نَيْلُ الْمَنْزِلَةِ بِابْتِلَاءِ الْمَكَارِهِ باب: ناگوار آزمائشوں کے ذریعے بلند مرتبہ حاصل ہونا۔
حدیث نمبر: 1290
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا يحيى بن أيوب البَجَلي، أخبرنا أبو زُرْعة بن عمرو بن جَرِير، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله: "إنَّ الرجل تكونُ له المنزلةُ عند الله، فما يَبلُغُها بعَمَلٍ، فلا يزال يَبتَلِيهِ بما يَكرَه حتى يُبلِّغَه ذلك" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ بندے کے لیے اللہ کے ہاں ایک ایسا بلند مرتبہ ہوتا ہے جسے وہ محض اپنے عمل کے ذریعے حاصل نہیں کر پاتا، چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے مسلسل ایسی ناپسندیدہ چیزوں (تکالیف) میں مبتلا رکھتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے اس مقام تک پہنچا دیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2908) من طريق محمد بن العلاء بن كريب، عن يونس بن بكير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2908) نے محمد بن علاء عن یونس بن بکیر کی سند سے روایت کیا ہے۔
(3) تعقبه الذهبي في "تلخيصه" بقوله: يحيى وأحمد ضعيفان، وليس يونس بحجة. قلنا: والحق أن هؤلاء أحاديثهم من قبيل الحسن وأحمد العطاردي - وإن كان أنزلهم مرتبة - قد توبع.
درجۂ حدیث: (3) علامہ ذہبی نے تلخیص میں اعتراض کیا ہے کہ یحییٰ اور احمد ضعیف ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی احادیث "حسن" کے درجے کی ہیں۔
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2908) من طريق محمد بن العلاء بن كريب، عن يونس بن بكير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2908) نے محمد بن علاء عن یونس بن بکیر کی سند سے روایت کیا ہے۔
(3) تعقبه الذهبي في "تلخيصه" بقوله: يحيى وأحمد ضعيفان، وليس يونس بحجة. قلنا: والحق أن هؤلاء أحاديثهم من قبيل الحسن وأحمد العطاردي - وإن كان أنزلهم مرتبة - قد توبع.
درجۂ حدیث: (3) علامہ ذہبی نے تلخیص میں اعتراض کیا ہے کہ یحییٰ اور احمد ضعیف ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی احادیث "حسن" کے درجے کی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1290 سے ماخوذ ہے۔