حدیث نمبر: 1286
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا الحجّاج بن أرْطاة، عن المِنهال بن عمرو، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباسٍ، قال: قال رسول الله ﷺ: "ما من مسلمٍ عادَ أخاه، فدخل عليه ولم يَحضُرْ أجلُه، فقال: أسألُ الله العظيم، ربَّ العرش العظيم، أن يَشفِيَ فلانًا من مَرَضِه، سبعَ مراتٍ، إِلَّا شَفَاه الله منه" (1). هذا مما لا يُعَدُّ خلافًا، فإنَّ الحجاج بن أرْطاة دون عبد ربِّه بن سعيد وأبي خالد الدَّالاني في الحفظ والإتقان، فإن ثَبَتَ حديثُ عبد الله بن الحارث من هذه الرواية فإنه شاهدٌ لسعيد بن جُبير.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بھی ایسا مسلمان جو اپنے کسی بھائی کی عیادت کرے اور اس کے پاس جائے جب کہ ابھی اس کی موت کا وقت نہ آیا ہو، پھر وہ سات مرتبہ یہ کہے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَ فُلَانًا مِنْ مَرَضِهِ» ”میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ فلاں کو اس کی بیماری سے شفا عطا فرمائے۔“ تو اللہ اسے ضرور شفا عطا فرما دے گا۔“
یہ ایسی روایت نہیں جسے خلاف شمار کیا جائے، کیونکہ حجاج بن ارطاہ حفظ و اتقان میں عبد ربہ بن سعید اور ابو خالد الدالانی سے کم تر ہیں، اگر اس روایت سے عبد اللہ بن حارث کی حدیث ثابت ہو جائے تو یہ سعید بن جبیر کی حدیث کے لیے شاہد بن جائے گی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1286
درجۂ حدیث محدثین: حديث جيد
تخریج حدیث «حديث جيد والحجّاج بن أرطاة ليس بذاك القوي خاصة عند المخالفة، وقد خولف كما سبق.» [ترقيم الرساله 1286] [ترقيم الشركة 1274]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث جيد والحجّاج بن أرطاة ليس بذاك القوي خاصة عند المخالفة، وقد خولف كما سبق.
درجۂ حدیث: (1) حدیث "جید" ہے مگر حجاج بن ارطاہ قوی راوی نہیں ہیں، خاص طور پر جب وہ ثقات کی مخالفت کریں۔
وأخرجه أحمد 5/ (3298) عن يزيد بن هارون بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (3298/5) نے یزید بن ہارون کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2138) عن أبي معاوية محمد بن خازم الضرير، والنسائي (10816) من طريق حفص بن غياث، كلاهما عن حجاج بن أرطاة، به. ووقع في رواية أبي معاوية قال: أُراه رفعه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد اور نسائی (10816) نے ابومعاویہ اور حفص بن غیاث کی سندوں سے حجاج بن ارطاہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق يزيد بن هارون برقم (7678). وانظر الحديثين السابقين.
تکرار: یہ یزید بن ہارون کے طریق سے نمبر (7678) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1286 سے ماخوذ ہے۔