کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نمازِ کسوف کے احکام کی کتاب۔
أخبرني أبو قُتيبة سَلْم بن الفضل الأَدَمي بمكة، حدثنا أبو شعيب الحرَّاني، حدثنا علي بن عبد الله المَدِيني، حدثنا سالم بن نوح العطّار، حدثنا سعيد بن إياس الجُريري، عن حيَّان بن عُمَير، عن عبد الرحمن بن سَمُرة قال: بينما أنا أَرمي أسهُمًا إذِ انكسفت الشمس، فنَبذتُها وانطلقتُ إلى رسول الله ﷺ، فانتهيتُ إليه وهو قائمٌ رافعٌ يديه يُسبِّح ويُكبِّر ويَحمَد ربَّه ويدعو، حتى انجلَتْ، وقرأ سورتين في ركعتين (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
حیان بن عمیر، سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: اسی دوران کہ میں تیر اندازی کر رہا تھا، اچانک سورج گرہن لگ گیا، تو میں نے تیروں کو پھینک دیا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف چل پڑا، میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے اللہ کی تسبیح، تکبیر، حمد اور دعا میں مشغول تھے، یہاں تک کہ گرہن ختم ہو گیا، اور آپ ﷺ نے دو رکعتوں میں دو سورتیں تلاوت فرمائیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الكسوف / حدیث: 1243
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، سعيد بن إياس الجريري وإن كان قد اختلط، إلّا أنه قد روى هذا الحديث عنه غير واحد ممن سمع منه قبل الاختلاط، كإسماعيل ابن علية ووهيب بن خالد وغيرهما- أبو شعيب الحراني: هو عبد الله بن الحسن-» [ترقيم الرساله 1243] [ترقيم الشركة 1232]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا حُمَيد بن عيَّاش الرَّمْلي، حدثنا مُؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سفيان، عن يعلى بن عطاء، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو. وعن عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو قال: انكسفت الشمسُ على عهد رسول الله ﷺ، فقام رسول الله ﷺ فأطال القيامَ حتى قيل: لا يَرْكع، ثم رَكَع، فأطال الرُّكوع حتى قيل: لا يَرفَع، ثم رَفَع رأسه، فأطال القيام حتى قيل: لا يَرْكع، ثم رَكَع، فأطال الرُّكوع حتى قيل: لا يَرفَع، ثم رَفَعَ رأسه، فأطال القيام حتى قيل: لا يَسجُد. وذَكَر باقي الحديث (2). حديث الثوري عن يعلى بن عطاء غريبٌ صحيح، فقد احتجَّ الشيخان بمؤمَّل بن إسماعيل، ولم يُخرجاه، فأما عطاء بن السائب فإنهما لم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
یعلیٰ بن عطاء اپنے والد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ اور عطاء بن سائب اپنے والد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور اس قدر طویل قیام کیا کہ کہا جانے لگا: آپ ﷺ رکوع نہیں کریں گے، پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور اس قدر طویل رکوع کیا کہ کہا جانے لگا: آپ ﷺ سر نہیں اٹھائیں گے، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور اس قدر طویل قیام کیا کہ کہا جانے لگا: آپ ﷺ رکوع نہیں کریں گے، پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور اس قدر طویل رکوع کیا کہ کہا جانے لگا: آپ ﷺ سر نہیں اٹھائیں گے، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور اس قدر طویل قیام کیا کہ کہا جانے لگا: آپ ﷺ سجدہ نہیں کریں گے۔ (اور بقیہ حدیث ذکر کی)۔
یعلیٰ بن عطاء سے (سفیان) ثوری کی حدیث غریب صحیح ہے، اور شیخین نے مؤمل بن اسماعیل سے حجت پکڑی ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا، اور جہاں تک عطاء بن سائب کا تعلق ہے تو انہوں نے انہیں روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الكسوف / حدیث: 1244
درجۂ حدیث محدثین: صحيح بطرقه وشواهده
تخریج حدیث «صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن من جهة عطاء بن السائب، من أجل مؤمل بن إسماعيل، لكنه قد توبع، وعطاء بن السائب سماع سفيان - وهو الثوري - منه قبل الاختلاط- أما ، من جهة يعلى بن عطاء فضعيف، لجهالة حال عطاء العامري، والد يعلى بن عطاء، فلم يرو عنه ...» [ترقيم الرساله 1244] [ترقيم الشركة 1233]