حدیث نمبر: 1240
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثني خالد بن نِزَار، حدثنا القاسم بن مبرور، عن يونس بن يزيد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: شكا الناسُ إلى رسول الله ﷺ قُحُوطَ المطر، فأمر بمِنبَر فوضع له في المصلَّى، ووَعَدَ الناس يومًا يخرُجون فيه، قالت عائشة: فخرج رسول الله ﷺ حين بَدَا حاجبُ الشمس، فقعد على المِنبَر فكبَّر وحَمِدَ الله ثم قال: "إنكم شَكَوتم جَدْبَ ديارِكم، واستِئخارَ المطرِ عن إبّانِ زمانِه، وقد أَمَرَكم الله أن تَدْعُوه، ووَعَدَكم أن يستجيبَ لكم" ثم قال: " ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾، لا إله إلا الله، يَفعلُ ما يريد، اللهم أنتَ الله لا إله إلّا أنتَ الغنيُّ ونحن الفقراء، أنزِلْ علينا الغَيْث، واجعلْ ما أنزلتَ لنا قوةً وبَلاغًا إلى حِين"، ثم رَفَعَ يديه، فلم يَزَلْ في الرفع حتى بَدَا بياضُ إبْطَيه، ثم حوَّل إلى الناس ظَهرَه وقَلَبَ - أو حوَّل - رِداءَه وهو رافعٌ يديه، ثم أقبَلَ على الناس ونَزَلَ فصلى ركعتين، فأنشأَ الله سحابًا فرَعَدَتْ وبَرَقَتْ، ثم أمطَرَتْ بإذن الله، فلم يأتِ مسجدَه حتى سالتِ السُّيول، فلمَّا رأى سُرعتَهم إلى الكِنِّ ضَحِكَ حتى بَدَتْ نواجِذُه، فقال: "أشهدُ أن الله على كل شيءٍ قدير، وأني عبدُ الله ورسولُه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے ایک منبر کا حکم دیا جو آپ ﷺ کے لیے عیدگاہ میں رکھ دیا گیا، اور آپ ﷺ نے لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جس میں وہ سب نکلیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا، پس آپ ﷺ منبر پر بیٹھے، اللہ کی تکبیر اور حمد بیان کی پھر فرمایا: ”تم نے اپنے علاقوں کی قحط سالی اور بارش کے اپنے مقررہ وقت سے تاخیر کی شکایت کی ہے، اور بے شک اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے، جزا کے دن کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم محتاج ہیں، ہم پر بارش نازل فرما اور جو کچھ تو ہم پر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے ایک مدت تک قوت اور پہنچنے کا ذریعہ بنا دے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور انہیں اتنی دیر تک اٹھائے رکھا کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ پھیر لی اور اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہی اپنی چادر کو پلٹا، پھر آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور نیچے اترے اور دو رکعت نماز پڑھائی، پس اللہ تعالیٰ نے بادل پیدا کیے جن میں گرج اور چمک تھی، پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی، اور آپ ﷺ ابھی اپنی مسجد تک نہیں پہنچے تھے کہ نالے بہہ نکلے، پس جب آپ ﷺ نے لوگوں کو سائے کی طرف جلدی بھاگتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے مبارک دانت ظاہر ہو گئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے، اور بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الاستسقاء / حدیث: 1240
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1240] [ترقيم الشركة 1229]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
وأخرجه ابن حبان (991) و (2860) من طريق طاهر بن خالد بن نزار، عن أبيه، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (991، 2860) نے طاہر بن خالد کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "الكِنّ" بكسر الكاف وتشديد النون: ما يردُّ الحر والبرد من الأبنية والمساكن.
(توضیح): "الكِنّ" (کاف کے زیر کے ساتھ)؛ ایسی عمارت یا جگہ جو سردی اور گرمی سے بچائے (گھر یا پناہ گاہ)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1240 سے ماخوذ ہے۔