المستدرك على الصحيحين
كتاب الاستسقاء— بارش طلب کرنے کی نماز کا بیان
دُعَاءُ الِاسْتِسْقَاءِ وَصَلَاتُهُ باب: نمازِ استسقاء کی دعا اور اس کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1242
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن محمد بن سليمان، حدثنا عليُّ بن عبد الله المَديني، حدثنا بَهْزُ بن أسد، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن سالم بن أبي الجعد، عن شُرَحْبيل بن السِّمْط، عن مُرَّة بن كعب: أنَّ رسول الله ﷺ دعا في الاستسقاء فقال: "اللهم اسقنا غيثًا مُغيثًا، مَريئًا سريعًا، غَدَقًا طَبَقًا، عاجلًا غير رائثٍ، نافعًا غيرَ ضارّ"، فما كانت إلّا جمعةٌ أو نحوُها حتى سُقُوا (1). آخر كتاب الاستسقاء [من كتاب الكسوف]
حافظ طلحہ بابر
شرحبیل بن سمط، مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے نماز استسقاء میں یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيئًا سَرِيعًا، غَدَقًا طَبَقًا، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ» ”اے اللہ! ہمیں ایسی بارش عطا فرما جو فریاد رس ہو، خوشگوار ہو اور جلد برسنے والی ہو، موسلادھار ہو اور سب کو گھیر لینے والی ہو، جلدی آنے والی ہو تاخیر کرنے والی نہ ہو، نفع بخش ہو نقصان دہ نہ ہو۔“ پس ایک جمعہ یا اس کے لگ بھگ ہی گزرا تھا کہ انہیں بارش عطا کر دی گئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
درجۂ حدیث: (1) پچھلی روایت کی طرح "صحیح لغیرہ" ہے مگر یہ سند ضعیف ہے۔
درجۂ حدیث: (1) پچھلی روایت کی طرح "صحیح لغیرہ" ہے مگر یہ سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1242 سے ماخوذ ہے۔