حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الحسن بن مُهاجِر، حدثنا أبو الرَّبيع سليمان بن داود المَهْري، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عبد العزيز بن أبي حازم، عن الضَّحَّاك بن عثمان، عن الأعرج، عن عبد الله بن بُحَينة أنه قال: صلَّى لنا رسولُ الله ﷺ صلاةً من الصَّلوات، فقام من اثنتَين فسُبِّح به، فمضى حتى فَرَغَ من صلاته ولم يَبقَ إلّا السلام، سَجَدَ سجدتَين وهو جالس قبلَ أن يُسلِّم (1).
هذا حديث مفسَّر صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث مفسَّر صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کسی نماز میں دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے بیٹھنے کے بجائے) قیام کیا، لوگوں نے سبحان اللہ کہہ کر آپ ﷺ کو توجہ دلائی لیکن آپ ﷺ آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ جب نماز سے فارغ ہوئے اور صرف سلام باقی رہ گیا تو آپ ﷺ نے بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کیے۔
یہ مفصل حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ مفصل حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العدل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن سعد بن أبي وقاص: أنه نَهَضَ في الركعتين، فسبَّحوا به، فاستتمَّ، ثم سَجَدَ سجدتي السَّهو حين انصرف، وقال: أكنتُم تَرَوني كنتُ أجلس؟ إنما صنعتُ كما رأيتُ رسولَ الله ﷺ يَصنَع (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ (پہلے تشہد کے بجائے) دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے، لوگوں نے انہیں توجہ دلانے کے لیے سبحان اللہ کہا مگر وہ سیدھے کھڑے رہے، پھر جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سہو کے دو سجدے کیے اور فرمایا: کیا تم یہ سمجھتے تھے کہ میں (توجہ دلانے پر دوبارہ) بیٹھ جاؤں گا؟ میں نے تو ویسا ہی کیا ہے جیسا میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله الدَّقَّاق، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وَهْب بن جَرير بن حازم، حدثنا أبي، قال: سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حبيب، عن سُوَيد بن قَيْس، عن معاوية بن حُدَيج قال: صليتُ مع رسول الله ﷺ المغرب، فسَها فسلَّم في ركعتين، ثم انصرف، فقال له رجل: يا رسولَ الله، إنك سَهَوتَ فسلَّمتَ في ركعتين، فأمر بلالًا فأقام الصلاة، ثم أتمَّ تلك الرَّكعةَ، فسألتُ الناسَ عن الرجل الذي قال: يا رسول الله، إنك سَهَوتَ، فقيل لي: تعرفُه؟ قلت: لا، إلّا أن أراه، فمرَّ بي رجلٌ، فقلت: هو هذا، قالوا: هذا طلحةُ بن عبيد الله (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ ﷺ سے سہو ہو گیا اور آپ نے دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا، پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے، تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ سے سہو ہو گیا ہے اور آپ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ہے“، تو آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے وہ بقیہ رکعت پوری فرمائی، میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول آپ سے سہو ہو گیا ہے، تو مجھ سے کہا گیا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، مگر یہ کہ اسے دیکھ لوں، پھر ایک شخص میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا: یہی وہ شخص ہے، لوگوں نے کہا: یہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوزير التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحَنْظَلي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أَشْعَث بن عبد الملك الحُمْراني، عن محمد بن سِيْرين، عن خالد الحَذَّاء، عن أبي قِلَابة، عن أبي المهلَّب، عن عِمْران بن حُصَين: أنَّ النبيَّ ﷺ تشهَّد في سَجدتي السَّهو، ثم سلَّم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث خالد الحَذَّاء عن أبي قِلابة (2)، وليس فيه ذِكرُ التشهد لسجدتي السهو:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث خالد الحَذَّاء عن أبي قِلابة (2)، وليس فيه ذِكرُ التشهد لسجدتي السهو:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سہو کے دونوں سجدوں میں تشہد پڑھا اور پھر سلام پھیرا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف خالد حذاء کی ابو قلابہ سے روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں سہو کے سجدوں کے تشہد کا ذکر نہیں ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف خالد حذاء کی ابو قلابہ سے روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں سہو کے سجدوں کے تشہد کا ذکر نہیں ہے۔