حدیث نمبر: 1221
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله الدَّقَّاق، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وَهْب بن جَرير بن حازم، حدثنا أبي، قال: سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حبيب، عن سُوَيد بن قَيْس، عن معاوية بن حُدَيج قال: صليتُ مع رسول الله ﷺ المغرب، فسَها فسلَّم في ركعتين، ثم انصرف، فقال له رجل: يا رسولَ الله، إنك سَهَوتَ فسلَّمتَ في ركعتين، فأمر بلالًا فأقام الصلاة، ثم أتمَّ تلك الرَّكعةَ، فسألتُ الناسَ عن الرجل الذي قال: يا رسول الله، إنك سَهَوتَ، فقيل لي: تعرفُه؟ قلت: لا، إلّا أن أراه، فمرَّ بي رجلٌ، فقلت: هو هذا، قالوا: هذا طلحةُ بن عبيد الله (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ ﷺ سے سہو ہو گیا اور آپ نے دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا، پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے، تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ سے سہو ہو گیا ہے اور آپ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ہے“، تو آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے وہ بقیہ رکعت پوری فرمائی، میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول آپ سے سہو ہو گیا ہے، تو مجھ سے کہا گیا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، مگر یہ کہ اسے دیکھ لوں، پھر ایک شخص میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا: یہی وہ شخص ہے، لوگوں نے کہا: یہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب السهو / حدیث: 1221
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح وهذا إسناد حسن
تخریج حدیث «حديث صحيح وهذا إسناد حسن» [ترقيم الرساله 1221] [ترقيم الشركة 1210]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح وهذا إسناد حسن. وهو مكرر (974).
درجۂ حدیث: (1) "حدیث صحیح" ہے اور سند "حسن" ہے۔ یہ نمبر (974) کی تکرار ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1221 سے ماخوذ ہے۔