حدیث نمبر: 1219
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الحسن بن مُهاجِر، حدثنا أبو الرَّبيع سليمان بن داود المَهْري، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عبد العزيز بن أبي حازم، عن الضَّحَّاك بن عثمان، عن الأعرج، عن عبد الله بن بُحَينة أنه قال: صلَّى لنا رسولُ الله ﷺ صلاةً من الصَّلوات، فقام من اثنتَين فسُبِّح به، فمضى حتى فَرَغَ من صلاته ولم يَبقَ إلّا السلام، سَجَدَ سجدتَين وهو جالس قبلَ أن يُسلِّم (1).
هذا حديث مفسَّر صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کسی نماز میں دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے بیٹھنے کے بجائے) قیام کیا، لوگوں نے سبحان اللہ کہہ کر آپ ﷺ کو توجہ دلائی لیکن آپ ﷺ آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ جب نماز سے فارغ ہوئے اور صرف سلام باقی رہ گیا تو آپ ﷺ نے بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کیے۔
یہ مفصل حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب السهو / حدیث: 1219
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، الضحاك بن عثمان وإن كان فيه كلام، قد توبع» [ترقيم الرساله 1219] [ترقيم الشركة 1208]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، الضحاك بن عثمان وإن كان فيه كلام، قد توبع. الأعرج: هو عبد الرحمن بن هرمز، وصحابيه عبد الله بن بحينة: هو عبد الله بن مالك بن القشب، وبحينة أمه.
درجۂ حدیث: (1) یہ "حدیث صحیح" ہے؛ ضحاک بن عثمان کی متابعت موجود ہے۔ عبداللہ بن بحینہ کی نسبت ان کی والدہ کی طرف ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (22919) و (22920) و (22930) و (22932) و (22933)، والبخاري (829) و (830) و (1224) و (1225) و (1230) و (6670)، ومسلم (570)، وأبو داود (1034) و (1035)، وابن ماجه (1206) و (1207)، والترمذي (391)، والنسائي (601 - 605) و (607) و (767) و (768) و (1146) و (1147) و (1185)، وابن حبان (1938) و (1939) و (1941) و (2676 - 2680) من طرق عن عبد الرحمن الأعرج، بهذا الإسناد. فاستراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (22919/38)، بخاری (829 وغیرہ)، مسلم (570)، ابوداؤد، ابن ماجہ، ترمذی اور نسائی نے عبدالرحمن الاعرج کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ حاکم کا استدراک یہاں بھی ان کا سہو ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (22931)، وابن حبان (2680) من طريقين عن ابن بحينة، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد اور ابن حبان نے براہِ راست ابن بحینہ کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرج النسائي (600) من طرق عبد ربه بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن مالك بن بحينة: أنه صلى مع النبي ﷺ، فقام في الشفع الذي يريد أن يجلس فيه، فسبَّحنا، فمضى ثم سجد سجدتين. قال النسائي: هذا خطأ، والصواب: عبد الله بن مالك بن بحينة.
علّت / فنی نکتہ: نسائی (600) کی روایت میں "مالک بن بحینہ" کا نام غلطی ہے، درست "عبداللہ بن مالک بن بحینہ" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1219 سے ماخوذ ہے۔