المستدرك على الصحيحين
كتاب السهو— سجدہ سہو کا بیان
سَجْدَةُ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ باب: سلام سے پہلے سجدۂ سہو کرنا۔
حدیث نمبر: 1222
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوزير التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحَنْظَلي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أَشْعَث بن عبد الملك الحُمْراني، عن محمد بن سِيْرين، عن خالد الحَذَّاء، عن أبي قِلَابة، عن أبي المهلَّب، عن عِمْران بن حُصَين: أنَّ النبيَّ ﷺ تشهَّد في سَجدتي السَّهو، ثم سلَّم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث خالد الحَذَّاء عن أبي قِلابة (2)، وليس فيه ذِكرُ التشهد لسجدتي السهو:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سہو کے دونوں سجدوں میں تشہد پڑھا اور پھر سلام پھیرا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف خالد حذاء کی ابو قلابہ سے روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں سہو کے سجدوں کے تشہد کا ذکر نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، إلّا أنَّ ذكر التشهد في سجدتي السهو شاذٌّ في حديث عمران بن حصين، فقد رواه جمع عن خالد الحذاء لم يذكروا فيه التشهد، وقد حكم عليه بالشذوذ البيهقي في "السنن" 2/ 355، والحافظ ابن حجر في "الفتح" 4/ 491، إلّا أنَّ الحافظ استدرك وذكر له شاهدين بإسنادين ضعيفين عن ابن مسعود والمغيرة، فحسّنه بمجموعها، انظر تفصيل ذلك في تعليقنا على "سنن أبي داود" (1039).
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے، مگر سجدہ سہو میں "تشہد" کا ذکر عمران بن حصین کی حدیث میں "شاذ" (غیر محفوظ) ہے۔ بیہقی اور ابن حجر نے اسے شاذ کہا ہے، البتہ ابن حجر نے دیگر ضعیف شواہد کی بنا پر اسے مجموعی طور پر حسن قرار دیا ہے۔
خالد الحذاء: هو ابن مهران، وأبو قلابة: هو عبد الله بن زيد الجرمي، وأبو المهلب: هو الجرمي البصري، مختلف في اسمه.
فنی نکتہ: خالد الحذاء سے مراد ابن مہران، ابوقلابہ سے مراد الجرمی اور ابومہلب سے مراد البصری ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1039)، والترمذي (395)، وابن حبان (2670) و (2672) من طريقين عن محمد بن عبد الله الأنصاري، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1039)، ترمذی (395) اور ابن حبان نے محمد بن عبداللہ الانصاری کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا۔
وانظر ما بعده.
فنی نکتہ: اس کے بعد والی روایت بھی دیکھیں۔
(2) حديث خالد الحذاء عن أبي قلابة إنما انفرد بإخراجه مسلم من بينهما، ولم يخرجه البخاري، كما سيأتي في التخريج.
علّت / فنی نکتہ: (2) خالد الحذاء عن ابی قلابہ کی روایت صرف امام مسلم نے لی ہے، بخاری میں یہ موجود نہیں۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے، مگر سجدہ سہو میں "تشہد" کا ذکر عمران بن حصین کی حدیث میں "شاذ" (غیر محفوظ) ہے۔ بیہقی اور ابن حجر نے اسے شاذ کہا ہے، البتہ ابن حجر نے دیگر ضعیف شواہد کی بنا پر اسے مجموعی طور پر حسن قرار دیا ہے۔
خالد الحذاء: هو ابن مهران، وأبو قلابة: هو عبد الله بن زيد الجرمي، وأبو المهلب: هو الجرمي البصري، مختلف في اسمه.
فنی نکتہ: خالد الحذاء سے مراد ابن مہران، ابوقلابہ سے مراد الجرمی اور ابومہلب سے مراد البصری ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1039)، والترمذي (395)، وابن حبان (2670) و (2672) من طريقين عن محمد بن عبد الله الأنصاري، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1039)، ترمذی (395) اور ابن حبان نے محمد بن عبداللہ الانصاری کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا۔
وانظر ما بعده.
فنی نکتہ: اس کے بعد والی روایت بھی دیکھیں۔
(2) حديث خالد الحذاء عن أبي قلابة إنما انفرد بإخراجه مسلم من بينهما، ولم يخرجه البخاري، كما سيأتي في التخريج.
علّت / فنی نکتہ: (2) خالد الحذاء عن ابی قلابہ کی روایت صرف امام مسلم نے لی ہے، بخاری میں یہ موجود نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1222 سے ماخوذ ہے۔