حدیث نمبر: 1098
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تمِيم الحنظليُّ ببغداد، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جريج، أخبرني عمر بن عطاء بن أبي الخُوَار: أنَّ نافع بن جُبير أرسله إلى السائب بن يزيد ليسأله عن شيءٍ رآه منه معاوية، فقال: صليتُ معه في المقصورة فقمتُ لأصلِّيَ في مكاني، فقال: لا تصلِّ حتى تمضيَ أمام ذلك أو تَكَلَّمَ، فإنَّ رسول الله ﷺ أَمَرَنا بذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1086 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

عمر بن عطاء بن ابی الخوار سے مروی ہے کہ نافع بن جبیر نے انہیں سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے کسی عمل پر (کیا) کہا تھا؟ سائب بن یزید نے کہا: میں نے ان کے ساتھ مقصورہ میں نماز پڑھی، پھر میں اپنی جگہ پر (نفل) پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا، تو انہوں نے کہا: ایسا نہ کرو، جب تک کہ تم یہاں سے آگے نہ بڑھ جاؤ یا گفتگو نہ کر لو (تب تک نفل نہ پڑھو)، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسی کا حکم دیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجمعة / حدیث: 1098
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرقاشي، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل» [ترقيم الرساله 1098] [ترقيم الشركة 1090] [ترقيم العلميه 1086]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرقاشي، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوقلابہ سے مراد الرقاشی اور ابوعاصم سے مراد الضحاک بن مخلد ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (16866) و (16913)، ومسلم (883)، وأبو داود (1129) من طرق عن ابن جريج، بهذا الإسناد. وذكروا جميعهم في رواياتهم: أنَّ تلك الصلاة كانت صلاة الجمعة. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16866/28)، مسلم (883) اور ابوداؤد (1129) نے ابن جریج کے طریقوں سے روایت کیا ہے اور سب نے اسے جمعہ کی نماز ہی بتایا ہے، لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک کہنا بھول (ذہول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1098 سے ماخوذ ہے۔