المستدرك على الصحيحين
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ باب: جس نے جمعہ کی نماز کی ایک رکعت پا لی اس نے پوری نماز پا لی۔
حدیث نمبر: 1091
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذ، حدثنا هشام بن علي، حدثنا عبد الله بن عبد الوهَّاب الحَجَبيُّ، حدثنا حماد بن زيد، عن مالك بن أنس وصالح بن أبي الأخضر، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "من أدركَ من الجمعة ركعةً، فليصلِّ إليها أخرى" (2). كُلُّ هؤلاء الأسانيد الثلاثة صِحاح على شرط الشيخين! ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا على حديث الزهري، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَنْ أدرك من الصَّلاة ركعةً" و"مَنْ أدرك من صلاةِ العصر ركعةً" (1). ولمسلم فيه الزيادة: "فقد أدركها كُلَّها" فقط (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی، تو وہ اس کے ساتھ دوسری (رکعت) ملا لے۔“
یہ تینوں اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہیں! لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف زہری کی ابوسلمہ عن ابوہریرہ والی اس روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں ہے کہ: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی“ اور ”جس نے عصر کی ایک رکعت پا لی“، جبکہ امام مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”تو اس نے پوری نماز پا لی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف من جهة صالح بن أبي الأخضر، وهذا اللفظ له كما صرَّح بذلك الدارقطني في "العلل" (1730)، أما لفظ مالك بن أنس فقد جاء على الجادة بدون ذكر الجمعة كما يأتي في مصادر التخريج.
فقد أخرجه ابن حبان (1487) من طريق أبي كامل الجَحدري، عن حماد بن زيد، عن مالك بن أنس وحده، بهذا الإسناد، ولفظه: "من أدرك من صلاة ركعة فقد أدرك".
درجۂ حدیث: (2) صالح بن ابی الاخضر کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے اور یہ الفاظ انہی کے ہیں، جبکہ امام مالک کے الفاظ عام طریقے (جادہ) کے مطابق "جمعہ" کے ذکر کے بغیر ہیں جیسا کہ ابن حبان (1487) میں مروی ہے۔
وأخرجه كذلك البخاري (580)، ومسلم (607) (161)، وأبو داود (1121)، والنسائي (1549)، وابن حبان (1483) من طرق عن مالك وحده، به.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (580)، مسلم (607/161)، ابوداؤد (1121) اور نسائی نے امام مالک ہی کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
(1) سبق تخريجها.
حوالہ / مصدر: (1) اس کی تخریج پہلے گزر چکی ہے۔
(2) مسلم برقم (607) (162) في طريق عبيد الله بن عمر العمري عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة، بلفظ: "فقد أدرك الصلاة كلها".
حوالہ / مصدر: (2) امام مسلم (607/162) نے عبید اللہ بن عمر کی روایت میں "اس نے پوری نماز پالی" کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔
فقد أخرجه ابن حبان (1487) من طريق أبي كامل الجَحدري، عن حماد بن زيد، عن مالك بن أنس وحده، بهذا الإسناد، ولفظه: "من أدرك من صلاة ركعة فقد أدرك".
درجۂ حدیث: (2) صالح بن ابی الاخضر کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے اور یہ الفاظ انہی کے ہیں، جبکہ امام مالک کے الفاظ عام طریقے (جادہ) کے مطابق "جمعہ" کے ذکر کے بغیر ہیں جیسا کہ ابن حبان (1487) میں مروی ہے۔
وأخرجه كذلك البخاري (580)، ومسلم (607) (161)، وأبو داود (1121)، والنسائي (1549)، وابن حبان (1483) من طرق عن مالك وحده، به.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (580)، مسلم (607/161)، ابوداؤد (1121) اور نسائی نے امام مالک ہی کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
(1) سبق تخريجها.
حوالہ / مصدر: (1) اس کی تخریج پہلے گزر چکی ہے۔
(2) مسلم برقم (607) (162) في طريق عبيد الله بن عمر العمري عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة، بلفظ: "فقد أدرك الصلاة كلها".
حوالہ / مصدر: (2) امام مسلم (607/162) نے عبید اللہ بن عمر کی روایت میں "اس نے پوری نماز پالی" کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1091 سے ماخوذ ہے۔