المستدرك على الصحيحين
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
الْأَمْرُ بِحُضُورِ الذِّكْرِ وَالدُّنُوِّ مِنَ الْإِمَامِ باب: ذکرِ الٰہی میں حاضر ہونے اور امام کے قریب بیٹھنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1082
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا جرير بن حازم، عن ثابت، عن أنس، قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يَنزِلُ من المنبَرِ فيَعرِضُ له الرجلُ في الحاجة، فيقومُ معه حتى يقضيَ حاجتَه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1070 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لا رہے ہوتے تو کوئی شخص اپنی کسی ضرورت کے لیے آپ ﷺ کے سامنے آ جاتا، پس آپ ﷺ اس کے ساتھ کھڑے رہتے یہاں تک کہ اس کی ضرورت پوری کر دیتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، غير أنَّ المحفوظ من حديث ثابت - وهو ابن أسلم البناني - أنَّ ذلك كان في صلاة العشاء وليس في صلاة الجمعة، أعلَّ الحديث بذلك غير واحد من أهل العلم، منهم البخاري وأبو داود والترمذي والدارقطني، وأرجعوا الوهم فيه إلى جرير بن حازم.
درجۂ حدیث: (1) سند صحیح ہے مگر
علّت / فنی نکتہ: ثابت البنانی کی یہ روایت دراصل عشاء کی نماز کے بارے میں تھی، جمعہ کے بارے میں کہنا جریر بن حازم کا وہم ہے جیسا کہ بخاری، ابوداؤد اور ترمذی نے واضح کیا۔
وأخرجه أبو داود (1120) عن مسلم بن إبراهيم، بهذا الإسناد. وقال بإثره: الحديث ليس بمعروف عن ثابت، وهو مما تفرد به جرير بن حازم.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1120) نے مسلم بن ابراہیم کی سند سے روایت کر کے فرمایا کہ یہ ثابت سے اس طرح معروف نہیں، جریر اس میں منفرد ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (12201) و (12284) و 20/ (13228)، وابن ماجه (1117)، والترمذي (517)، والنسائي (1744)، وابن حبان (8205) من طرق عن جرير بن حازم، به. قال الترمذي: هذا حديث غريب لا نعرفه إلّا من حديث جرير بن حازم، سمعت محمدًا يقول: وهم جرير في هذا الحديث، والصحيح ما روي عن ثابت عن أنس قال: أقيمت الصلاة فأخذ رجل بيد النبي ﷺ فما زال يكلمه حتى نعس بعض القوم، والحديث هو هذا، وجرير بن حازم ربما يهم في الشيء، وهو صدوق.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے جریر بن حازم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "غریب" کہا اور جریر کے وہم کی نشاندہی کی۔
قلنا: والحديث الذي أشار إليه البخاري هو في "صحيحه" (643) من طريق حميد، وفي "صحيح مسلم" (376) (126) من طريق حماد بن سلمة، كلاهما عن ثابت عن أنس. وقد صرَّح حماد في روايته أنَّ ذلك كان في صلاة العشاء.
متابعات و شواہد: بخاری (643) اور مسلم (376) میں ثابت عن انس کی یہ روایت موجود ہے جس میں حماد بن سلمہ نے صراحت کی کہ یہ عشاء کا واقعہ تھا۔
درجۂ حدیث: (1) سند صحیح ہے مگر
علّت / فنی نکتہ: ثابت البنانی کی یہ روایت دراصل عشاء کی نماز کے بارے میں تھی، جمعہ کے بارے میں کہنا جریر بن حازم کا وہم ہے جیسا کہ بخاری، ابوداؤد اور ترمذی نے واضح کیا۔
وأخرجه أبو داود (1120) عن مسلم بن إبراهيم، بهذا الإسناد. وقال بإثره: الحديث ليس بمعروف عن ثابت، وهو مما تفرد به جرير بن حازم.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1120) نے مسلم بن ابراہیم کی سند سے روایت کر کے فرمایا کہ یہ ثابت سے اس طرح معروف نہیں، جریر اس میں منفرد ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (12201) و (12284) و 20/ (13228)، وابن ماجه (1117)، والترمذي (517)، والنسائي (1744)، وابن حبان (8205) من طرق عن جرير بن حازم، به. قال الترمذي: هذا حديث غريب لا نعرفه إلّا من حديث جرير بن حازم، سمعت محمدًا يقول: وهم جرير في هذا الحديث، والصحيح ما روي عن ثابت عن أنس قال: أقيمت الصلاة فأخذ رجل بيد النبي ﷺ فما زال يكلمه حتى نعس بعض القوم، والحديث هو هذا، وجرير بن حازم ربما يهم في الشيء، وهو صدوق.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے جریر بن حازم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "غریب" کہا اور جریر کے وہم کی نشاندہی کی۔
قلنا: والحديث الذي أشار إليه البخاري هو في "صحيحه" (643) من طريق حميد، وفي "صحيح مسلم" (376) (126) من طريق حماد بن سلمة، كلاهما عن ثابت عن أنس. وقد صرَّح حماد في روايته أنَّ ذلك كان في صلاة العشاء.
متابعات و شواہد: بخاری (643) اور مسلم (376) میں ثابت عن انس کی یہ روایت موجود ہے جس میں حماد بن سلمہ نے صراحت کی کہ یہ عشاء کا واقعہ تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1082 سے ماخوذ ہے۔