کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، جلدی جائے اور خطبہ غور سے سنے، اس کے گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے بھی۔
فحدثني علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا يزيد بن الهيثم القَطِيعي، حدثنا إبراهيم بن أبي الليث، حدثنا الأشجَعيُّ عن سفيان، عن عبد الله بن عيسى، عن يحيى بن الحارث، عن أبي الأشعث الصنعانيّ، عن أوسِ بن أوس الثَّقفي، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن غَسَل واغتَسَل ثم غدا، وابتَكَر، فجلس من الإمام قريبًا فاستَمَع وأنصَتَ، كان له بكلِّ خُطْوةٍ أجرُ سنةٍ، صيامِها وقيامِها" (1). وأما حديث حسان بن عطية:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے (اپنا سر) دھویا اور غسل کیا، پھر اول وقت میں گیا، اور امام کے قریب بیٹھ کر خاموشی سے توجہ کے ساتھ سنا، تو اس کے لیے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے عمل کا اجر ہے، اس (سال) کے روزوں کا بھی اور اس کے قیام کا بھی۔“
أخبرناه الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، حدثنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا الأوزاعيُّ، حدثنا حسّان بن عَطيّة، حدثني أبو الأشعث الصَّنعاني، حدثني أوس بن أوس الثقفيّ، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "مَن غَسَل واغتَسَل يوم الجمعة، ثم بَكَّر وابتَكَر، فدنا واستَمَع ولم يَلْغُ، كان له بكل خُطْوة يخطوها عملُ سنةٍ، أجرُ صيامها وقيامها" (2). قد صحَّ هذا الحديث بهذه الأسانيد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأظنه لحديثٍ واءٍ لا يُعلَّل مثلُ هذه الأسانيد بمثله، وهو حديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1042 - له علة مهدرة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1042 - له علة مهدرة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے جمعہ کے دن (اپنا سر) دھویا اور غسل کیا، پھر خوب اول وقت میں گیا، اور (امام کے) قریب ہو کر سنا اور کوئی لغو کام نہ کیا، تو اس کے لیے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے عمل کا اجر، یعنی اس کے روزوں اور قیام کا ثواب ہوگا۔“
یہ حدیث ان اسناد کے ساتھ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرا خیال ہے کہ اس کی وجہ ایک ضعیف حدیث ہے، حالانکہ ان جیسی صحیح اسناد کی اس طرح کی روایت سے علت بیان نہیں کی جا سکتی، اور وہ حدیث یہ ہے:
یہ حدیث ان اسناد کے ساتھ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرا خیال ہے کہ اس کی وجہ ایک ضعیف حدیث ہے، حالانکہ ان جیسی صحیح اسناد کی اس طرح کی روایت سے علت بیان نہیں کی جا سکتی، اور وہ حدیث یہ ہے:
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن كامل، حدثنا أحمد بن الوليد الفحَّام، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا ثَور بن يزيد، عن عثمان الشَّيبانيّ (1)، أنه سمع أبا الأشعث الصَّنعانيَّ يحدِّث عن أوس بن أوس الثَّقفي، عن عبد الله بن عَمروٍ قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن غَسَل يوم الجمعة واغتَسَل، ودنا من الإمام واقترب، واستَمَع وأنصَتَ، كان له بكلِّ خُطوةٍ يَخطُوها أجرُ صيام سنةٍ وقيامِها" (2). هذا لا يعلِّل الأحاديث الثابتة الصحيحة من أوجُهٍ: أولها: أنَّ حسان بن عطيّة قد ذَكَرَ سماع أوس بن أوس من النبي ﷺ. وثانيها: أنَّ ثَوْر بن يزيد دون أولئك في الاحتجاج به. وثالثها: أنَّ عثمان الشَّيباني مجهول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1043 - عثمان مجهول
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1043 - عثمان مجهول
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن (سر) دھویا اور غسل کیا، اور امام کے قریب ہو کر توجہ سے خاموشی کے ساتھ سنا، تو اس کے لیے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیام کا اجر ہوگا۔“
یہ روایت کئی وجوہات کی بنا پر ثابت شدہ صحیح احادیث میں علت پیدا نہیں کرتی: پہلی یہ کہ حسان بن عطیہ نے صراحتاً سیدنا اوس بن اوس کا نبی کریم ﷺ سے سماع ذکر کیا ہے، دوسری یہ کہ ثور بن یزید احتجاج میں ان راویوں سے کم تر درجے کے ہیں، اور تیسری یہ کہ عثمان شیبانی مجہول ہے۔
یہ روایت کئی وجوہات کی بنا پر ثابت شدہ صحیح احادیث میں علت پیدا نہیں کرتی: پہلی یہ کہ حسان بن عطیہ نے صراحتاً سیدنا اوس بن اوس کا نبی کریم ﷺ سے سماع ذکر کیا ہے، دوسری یہ کہ ثور بن یزید احتجاج میں ان راویوں سے کم تر درجے کے ہیں، اور تیسری یہ کہ عثمان شیبانی مجہول ہے۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا موسى بن هارون وصالح بن محمد الرَّازي والحسين بن محمد بن زياد. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، قالوا: حدثنا سُرَيج بن يونس، حدثنا هارون بن مسلم العِجْلي، حدثنا أبانُ بن يزيد، عن يحيى بن أبي كَثِير، عن عبد الله بن أبي قَتادة، قال: دخل عليَّ أبي وأنا أغتسِلُ يوم الجمعة، فقال: غُسلٌ من جَنابةٍ أو للجمعة؟ قال: قلت: من جَنابة، قال: أعِدْ غُسلًا آخر؛ فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "من اغتَسَلَ يوم الجمعةِ، كان في طهارةٍ إلى الجمعةِ الأخرى" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وهارون بن مسلم العِجْلي شيخٌ قديمٌ للبصريين يقال له: الحِنّائي، ثقةٌ قد روى عنه أحمد بن حنبل وعبيد الله بن عمر القَوارِيريّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1044 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وهارون بن مسلم العِجْلي شيخٌ قديمٌ للبصريين يقال له: الحِنّائي، ثقةٌ قد روى عنه أحمد بن حنبل وعبيد الله بن عمر القَوارِيريّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1044 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابی قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں جمعہ کے دن غسل کر رہا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ غسلِ جنابت ہے یا جمعہ کے لیے؟ میں نے کہا: جنابت کا غسل ہے، تو انہوں نے فرمایا: دوبارہ غسل کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، وہ اگلے جمعہ تک طہارت کی حالت میں رہتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ہارون بن مسلم عجلی بصریوں کے قدیم شیخ ہیں جنہیں حنائی کہا جاتا ہے اور وہ ثقہ ہیں، ان سے امام احمد بن حنبل اور عبید اللہ بن عمر قواریری نے روایت کی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ہارون بن مسلم عجلی بصریوں کے قدیم شیخ ہیں جنہیں حنائی کہا جاتا ہے اور وہ ثقہ ہیں، ان سے امام احمد بن حنبل اور عبید اللہ بن عمر قواریری نے روایت کی ہے۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عليُّ بن عبد العزيز، حدثنا حجّاج بن منهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن محمد ابن إبراهيم، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة وأبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن غَسَل يوم الجمعة واستاك ولَبِس أحسنَ ثيابه وتطيَّب بطيبٍ إِن وَجَدَه، ثم جاء ولم يتخطَّ الناسَ، فصلَّى ما شاء الله أن يصلي، فإذا خرج الإمامُ سكت، فذلك كفارةٌ إلى الجمعة الأخرى" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه أيضًا إسماعيل ابن عُليَّة عن محمد بن إسحاق، مثل رواية حماد بن سلمة، وقيَّده بأبي أُمامة بن سهل مقرونًا بأبي سلمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1045 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه أيضًا إسماعيل ابن عُليَّة عن محمد بن إسحاق، مثل رواية حماد بن سلمة، وقيَّده بأبي أُمامة بن سهل مقرونًا بأبي سلمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1045 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، مسواک کی، اپنے بہترین کپڑے پہنے اور اگر اسے میسر ہو تو خوشبو لگائی، پھر (مسجد میں) آیا اور لوگوں کی گردنیں نہیں پھلانگیں، پھر جتنی اللہ نے چاہی اتنی نماز پڑھی، پھر جب امام (خطبہ کے لیے) نکلا تو خاموش رہا، تو یہ عمل اگلے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے اسماعیل بن علیہ نے بھی محمد بن اسحاق سے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح نقل کیا ہے، البتہ انہوں نے اسے ابوسلمہ کے ساتھ ابوامامہ بن سہل سے مقید کیا ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے اسماعیل بن علیہ نے بھی محمد بن اسحاق سے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح نقل کیا ہے، البتہ انہوں نے اسے ابوسلمہ کے ساتھ ابوامامہ بن سہل سے مقید کیا ہے:
أخبرَناهُ أحمد بن جعفر القَطِيعيّ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن محمد بن إسحاق، حدثني محمد بن إبراهيم، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن وأبي أُمامة بن سَهل، عن أبي هريرة وأبي سعيدٍ قالا: سَمِعْنا رسول الله ﷺ يقول: "مَن اغتسل يوم الجمعة، واستنَّ ومسَّ من طيبٍ إن كان عنده، ولَبِس أحسنَ ثيابه، ثم جاء إلى المسجد، ولم يتخطَّ رِقابَ الناس، ثم ركع ما شاء الله أن يركع، ثم أنصَتَ إذا خرج إمامُه حتى يصلي، كانت له كفارةً لما بينها وبين الجمعة التي كانت قبلَها". يقول أبو هريرة: وثلاثةُ أيامٍ زيادةً؛ إنَّ الله قد جعل الحسنة بعَشْر أمثالها (1). إسماعيل ابن عُليَّة من الثقات الذي أجمعا على إخراجه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع الأول سنةَ خمسٍ وتسعين وثلاث مئة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، مسواک کی، اگر اس کے پاس ہو تو خوشبو لگائی اور اپنے بہترین کپڑے پہنے، پھر مسجد کی طرف آیا اور لوگوں کی گردنیں نہیں پھلانگیں، پھر جتنی اللہ نے چاہی اتنی نماز پڑھی، پھر جب امام (خطبہ کے لیے) نکلا تو نماز (پوری ہونے) تک خاموش رہا، تو یہ عمل اس کے لیے اس جمعہ اور اس سے پچھلے جمعہ کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اور مزید تین دن کا بھی کفارہ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک نیکی کا بدلہ دس گنا رکھا ہے۔
اسماعیل بن علیہ ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی روایت پر شیخین نے اتفاق کیا ہے۔ ہمیں حاکم ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے ربیع الاول سن 395 ہجری میں یہ حدیث املاء کرائی:
اسماعیل بن علیہ ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی روایت پر شیخین نے اتفاق کیا ہے۔ ہمیں حاکم ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے ربیع الاول سن 395 ہجری میں یہ حدیث املاء کرائی: