حدیث نمبر: 1058
أخبرَناهُ أحمد بن جعفر القَطِيعيّ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن محمد بن إسحاق، حدثني محمد بن إبراهيم، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن وأبي أُمامة بن سَهل، عن أبي هريرة وأبي سعيدٍ قالا: سَمِعْنا رسول الله ﷺ يقول: "مَن اغتسل يوم الجمعة، واستنَّ ومسَّ من طيبٍ إن كان عنده، ولَبِس أحسنَ ثيابه، ثم جاء إلى المسجد، ولم يتخطَّ رِقابَ الناس، ثم ركع ما شاء الله أن يركع، ثم أنصَتَ إذا خرج إمامُه حتى يصلي، كانت له كفارةً لما بينها وبين الجمعة التي كانت قبلَها". يقول أبو هريرة: وثلاثةُ أيامٍ زيادةً؛ إنَّ الله قد جعل الحسنة بعَشْر أمثالها (1). إسماعيل ابن عُليَّة من الثقات الذي أجمعا على إخراجه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع الأول سنةَ خمسٍ وتسعين وثلاث مئة:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، مسواک کی، اگر اس کے پاس ہو تو خوشبو لگائی اور اپنے بہترین کپڑے پہنے، پھر مسجد کی طرف آیا اور لوگوں کی گردنیں نہیں پھلانگیں، پھر جتنی اللہ نے چاہی اتنی نماز پڑھی، پھر جب امام (خطبہ کے لیے) نکلا تو نماز (پوری ہونے) تک خاموش رہا، تو یہ عمل اس کے لیے اس جمعہ اور اس سے پچھلے جمعہ کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اور مزید تین دن کا بھی کفارہ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک نیکی کا بدلہ دس گنا رکھا ہے۔
اسماعیل بن علیہ ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی روایت پر شیخین نے اتفاق کیا ہے۔ ہمیں حاکم ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے ربیع الاول سن 395 ہجری میں یہ حدیث املاء کرائی:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجمعة / حدیث: 1058
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،كسابقه» [ترقيم الرساله 1058] [ترقيم الشركة 1050]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن كسابقه.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند پچھلی روایت کی طرح "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 18/ (11768)، وأبو داود (343) من طريقين عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (11768/18) اور ابوداؤد (343) نے محمد بن اسحاق کے دو طریقوں سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
فنی نکتہ: اس سے پہلے والی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1058 سے ماخوذ ہے۔