المستدرك على الصحيحين
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
مَنْ غَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَجْرُ صِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامِهَا باب: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، جلدی جائے اور خطبہ غور سے سنے، اس کے گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے بھی۔
حدیث نمبر: 1054
أخبرناه الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، حدثنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا الأوزاعيُّ، حدثنا حسّان بن عَطيّة، حدثني أبو الأشعث الصَّنعاني، حدثني أوس بن أوس الثقفيّ، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "مَن غَسَل واغتَسَل يوم الجمعة، ثم بَكَّر وابتَكَر، فدنا واستَمَع ولم يَلْغُ، كان له بكل خُطْوة يخطوها عملُ سنةٍ، أجرُ صيامها وقيامها" (2). قد صحَّ هذا الحديث بهذه الأسانيد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأظنه لحديثٍ واءٍ لا يُعلَّل مثلُ هذه الأسانيد بمثله، وهو حديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1042 - له علة مهدرةحافظ طلحہ بابر
سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے جمعہ کے دن (اپنا سر) دھویا اور غسل کیا، پھر خوب اول وقت میں گیا، اور (امام کے) قریب ہو کر سنا اور کوئی لغو کام نہ کیا، تو اس کے لیے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے عمل کا اجر، یعنی اس کے روزوں اور قیام کا ثواب ہوگا۔“
یہ حدیث ان اسناد کے ساتھ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرا خیال ہے کہ اس کی وجہ ایک ضعیف حدیث ہے، حالانکہ ان جیسی صحیح اسناد کی اس طرح کی روایت سے علت بیان نہیں کی جا سکتی، اور وہ حدیث یہ ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. الحسن بن حليم: هو الحسن بن محمد بن حليم الحليمي، نُسب إلى جده، وأبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبدان لقبه، وعبد الله: هو ابن المبارك، والأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: حسن بن حلیم سے مراد الحلیمی، ابوموجہ سے مراد محمد الفزاری اور عبدان سے مراد عبداللہ بن عثمان المروزی ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16173) و (16174)، وأبو داود (345)، وابن ماجه (1087)، وابن حبان (2781) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16173/26 وغیرہ)، ابوداؤد (345)، ابن ماجہ (1087) اور ابن حبان (2781) نے ابن المبارک کے طریقوں سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال ابن حبان بإثره: قوله: "من غَسَل" يريد: غَسَل رأسه، "واغتسل" يريد: اغتسل بنفسه. لأنَّ القوم كانت لهم جُمَمٌ (جمع جُمَّة، وهو من شعر الرأس: ما سقط على المنكبين) احتاجوا إلى تعاهدها.
(توضیح): ابن حبان نے فرمایا: "غَسَل" کا مطلب سر دھونا اور "اغتسل" کا مطلب پورے جسم کا غسل کرنا ہے، کیونکہ اس زمانے میں لوگوں کے بال کندھوں تک (جمّہ) ہوتے تھے جن کی صفائی ضروری تھی۔
وقوله: "بكّر وابتكر" يريد: بكَّر إلى الغُسل، وابتكر إلى الجمعة.
(توضیح): "بکّر وابتکر" کا مطلب ہے غسل کے لیے جلدی کی اور جمعہ کے لیے سویرے نکلا۔
وأخرج أبو داود (349) بإسناده إلى مكحول في قوله: "غسل واغتسل"، قال: غسل رأسه وجسده. و (350) عن سعيد بن عبد العزيز قال: غسل رأسه وغسل جسده.
حوالہ / مصدر: ابوداؤد نے مکحول اور سعید بن عبدالعزیز سے نقل کیا کہ اس سے مراد سر اور جسم دونوں کا دھونا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: حسن بن حلیم سے مراد الحلیمی، ابوموجہ سے مراد محمد الفزاری اور عبدان سے مراد عبداللہ بن عثمان المروزی ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16173) و (16174)، وأبو داود (345)، وابن ماجه (1087)، وابن حبان (2781) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16173/26 وغیرہ)، ابوداؤد (345)، ابن ماجہ (1087) اور ابن حبان (2781) نے ابن المبارک کے طریقوں سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال ابن حبان بإثره: قوله: "من غَسَل" يريد: غَسَل رأسه، "واغتسل" يريد: اغتسل بنفسه. لأنَّ القوم كانت لهم جُمَمٌ (جمع جُمَّة، وهو من شعر الرأس: ما سقط على المنكبين) احتاجوا إلى تعاهدها.
(توضیح): ابن حبان نے فرمایا: "غَسَل" کا مطلب سر دھونا اور "اغتسل" کا مطلب پورے جسم کا غسل کرنا ہے، کیونکہ اس زمانے میں لوگوں کے بال کندھوں تک (جمّہ) ہوتے تھے جن کی صفائی ضروری تھی۔
وقوله: "بكّر وابتكر" يريد: بكَّر إلى الغُسل، وابتكر إلى الجمعة.
(توضیح): "بکّر وابتکر" کا مطلب ہے غسل کے لیے جلدی کی اور جمعہ کے لیے سویرے نکلا۔
وأخرج أبو داود (349) بإسناده إلى مكحول في قوله: "غسل واغتسل"، قال: غسل رأسه وجسده. و (350) عن سعيد بن عبد العزيز قال: غسل رأسه وغسل جسده.
حوالہ / مصدر: ابوداؤد نے مکحول اور سعید بن عبدالعزیز سے نقل کیا کہ اس سے مراد سر اور جسم دونوں کا دھونا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1054 سے ماخوذ ہے۔