حدَّثَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا عمر بن علي الجوهَري، حدثنا أبو النَّضْر أحمد بن عَتِيق العَتِيقي، حدثنا محمد بن سِنَان العَوَقي، حدثنا همَّام، عن قَتَادة، عن خِلَاس، عن أبي رافع، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال: "من صلَّى ركعةً من صلاة الصبح ثم طَلَعت الشمسُ، فليُتِمَّ صلاتَه" (3). كلا الإسنادين صحيحان، فقد احتَجَّا جميعًا بخِلَاس بن عمرو شاهدًا (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نمازِ صبح کی ایک رکعت پڑھ لی اور پھر سورج طلوع ہو گیا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی نماز مکمل کر لے۔“
یہ دونوں سندیں صحیح ہیں، کیونکہ ان دونوں نے ہی خلاص بن عمرو سے بطورِ شاہد احتجاج کیا ہے۔
یہ دونوں سندیں صحیح ہیں، کیونکہ ان دونوں نے ہی خلاص بن عمرو سے بطورِ شاہد احتجاج کیا ہے۔
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو بَدْر عبَّاد بن الوليد الغُبَري، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همَّام، عن قَتَادة، عن النَّضْر بن أنس، عن بَشِير بن نَهِيك، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "من لم يُصلِّ ركعتي الفجر حتى تَطلُعَ الشمس، فليُصلِّهما (2) ".
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1015 - الإسنادان صحيحان على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1015 - الإسنادان صحيحان على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے سورج طلوع ہونے تک فجر کی دو (سنت) رکعتیں نہ پڑھی ہوں، تو وہ انہیں (بعد میں) پڑھ لے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو أحمد الحسين بن علي التَّميمي، حدثنا محمد بن المسيَّب، حدثنا إسحاق بن شاهين، أخبرنا خالد بن عبد الله، عن يونس، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: كان رسول الله ﷺ في مَسِيرٍ له، فناموا عن صلاة الفجر، فاستيقَظوا بحَرِّ الشمس، فارتفَعوا قليلًا حتى استَعلَتْ، ثم أَمَرَ المؤذِّنَ فأذَّن، ثم صلَّى الركعتين قبل الفجر، ثم أقام المؤذِّنُ فصَلَّى الفجرَ (3).
هذا حديث صحيح على ما قدَّمنا ذكرَه من صِحَّة سماع الحسن عن عمران، وإعادتُه الركعتين لم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1016 - صحيح
هذا حديث صحيح على ما قدَّمنا ذكرَه من صِحَّة سماع الحسن عن عمران، وإعادتُه الركعتين لم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1016 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، پس سب لوگ نمازِ فجر سے سوئے رہ گئے یہاں تک کہ سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوئے، پھر وہ تھوڑا آگے بڑھے یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی، پھر آپ ﷺ نے فجر سے پہلے والی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھیں، پھر مؤذن نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی۔
یہ حدیث ہمارے سابقہ بیان کے مطابق صحیح ہے کہ حسن کا سماع عمران سے ثابت ہے، تاہم سنتوں کے اعادہ کا ذکر شیخین نے روایت نہیں کیا، اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی ہے:
یہ حدیث ہمارے سابقہ بیان کے مطابق صحیح ہے کہ حسن کا سماع عمران سے ثابت ہے، تاہم سنتوں کے اعادہ کا ذکر شیخین نے روایت نہیں کیا، اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی ہے: