حدیث نمبر: 1027
حدَّثَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا عمر بن علي الجوهَري، حدثنا أبو النَّضْر أحمد بن عَتِيق العَتِيقي، حدثنا محمد بن سِنَان العَوَقي، حدثنا همَّام، عن قَتَادة، عن خِلَاس، عن أبي رافع، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال: "من صلَّى ركعةً من صلاة الصبح ثم طَلَعت الشمسُ، فليُتِمَّ صلاتَه" (3). كلا الإسنادين صحيحان، فقد احتَجَّا جميعًا بخِلَاس بن عمرو شاهدًا (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نمازِ صبح کی ایک رکعت پڑھ لی اور پھر سورج طلوع ہو گیا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی نماز مکمل کر لے۔“
یہ دونوں سندیں صحیح ہیں، کیونکہ ان دونوں نے ہی خلاص بن عمرو سے بطورِ شاہد احتجاج کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 1027
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وعمر بن علي الجوهري هذا أغلب الظن أنه الحافظ عمر بن أحمد بن ، علي المروزي الجوهري المعروف بابن علّك كما في "سير أعلام النبلاء" 15/ 243، ويكون المصنف هنا نسبه إلى جدِّه- خلاس: هو ابن عمر الهَجَري، وأبو رافع: هو نفيع الصائغ-» [ترقيم الرساله 1027] [ترقيم الشركة 1019]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. وعمر بن علي الجوهري هذا أغلب الظن أنه الحافظ عمر بن أحمد بن

علي المروزي الجوهري المعروف بابن علّك كما في "سير أعلام النبلاء" 15/ 243، ويكون المصنف هنا نسبه إلى جدِّه. خلاس: هو ابن عمر الهَجَري، وأبو رافع: هو نفيع الصائغ.

درجۂ حدیث: (3) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: عمر بن علی الجوہری سے مراد غالباً حافظ عمر المروزی "ابن علک" ہیں، مصنف نے انہیں ان کے دادا کی طرف منسوب کیا ہے۔ خلاص سے مراد ابن عمر الہجری اور ابورافع سے مراد نفیع الصائغ ہیں۔
وأخرجه أحمد 16/ (10359) عن بهز بن أسد وعفان، والنسائي (464) من طريق أبي الوليد الطيالسي، ثلاثتهم عن همام، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد اور نسائی (464) نے ہمام کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 12/ (7216) و 16/ (10339) من طريق سعيد بن أبي عروبة عن قتادة به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے سعید بن ابی عروبہ عن قتادہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
(1) يريد بذلك -والله أعلم- أنَّ روايته وقعت عند البخاري مقرونة بغيره، وأما عند مسلم فقد جاء في حديث واحد على صورة المتابعة لحديث تقدَّمه.
فنی نکتہ: (1) یعنی امام بخاری نے اسے دیگر روایات کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے، اور امام مسلم کے ہاں یہ ایک سابقہ حدیث کی متابعت کے طور پر آئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1027 سے ماخوذ ہے۔