حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن أبيه، عن جدِّه: أنه جاء والنبيُّ ﷺ يصلِّي صلاةَ الفجر فصلَّى معه، فلما سَلَّمَ قام فصلَّى ركعتي الفجر، فقال: له النبي ﷺ: "ما هاتانِ الرَّكعتانِ؟ " فقال: لم أكن صلَّيتُهما قبلَ الفجر، فَسَكَتَ ولم يقل شيئًا (1). قيس بن قَهْد الأنصاري صحابي، والطريق إليه صحيح على شرطهما. وقد رواه محمد بن إبراهيم التيمي عن قيس بن قَهْد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1017 - قيس بن فهد صحابي وله شاهد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1017 - قيس بن فهد صحابي وله شاهد
حافظ طلحہ بابر
قیس بن قہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ آئے جبکہ نبی کریم ﷺ نمازِ فجر پڑھا رہے تھے، انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہوئے اور فجر کی دو (سنت) رکعتیں پڑھیں، نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ دو رکعتیں کیسی ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے انہیں فجر سے پہلے نہیں پڑھا تھا، تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے اور کچھ نہیں فرمایا۔
قیس بن قہد انصاری رضی اللہ عنہ صحابی ہیں اور ان تک پہنچنے والی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اسے محمد بن ابراہیم تیمی نے بھی قیس بن قہد سے روایت کیا ہے:
قیس بن قہد انصاری رضی اللہ عنہ صحابی ہیں اور ان تک پہنچنے والی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اسے محمد بن ابراہیم تیمی نے بھی قیس بن قہد سے روایت کیا ہے:
أخبرَناه عبد الله بن محمد الصَّيدَلاني، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة السُّلَمي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن نُمَير، حدثنا سعد بن سعيد، حدثني محمد بن إبراهيم التَّيْمي، عن قيس بن قَهْد قال: رأَى رسول الله ﷺ رجلًا يصلِّي بعد صلاة الصبح ركعتين، فقال رسول الله ﷺ: "أصلاةَ الصُّبحِ مرَّتين؟ " فقال الرجل: لم أكن صلَّيتُ الركعتين اللتين قبلَها فصليتُهما الآن، قال: فسَكَتَ عنه رسول الله ﷺ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن قہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو صبح کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا صبح کی نماز دو مرتبہ پڑھ رہے ہو؟“ اس شخص نے عرض کیا: میں نے ان سے پہلے والی دو رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، سو میں نے انہیں اب پڑھا ہے، راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ اس سے خاموش رہے۔