المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
قَضَاءُ سُنَّةِ الْفَجْرِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ باب: سورج نکل آنے کے بعد فجر کی سنتوں کی قضا کرنا۔
حدیث نمبر: 1028
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو بَدْر عبَّاد بن الوليد الغُبَري، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همَّام، عن قَتَادة، عن النَّضْر بن أنس، عن بَشِير بن نَهِيك، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "من لم يُصلِّ ركعتي الفجر حتى تَطلُعَ الشمس، فليُصلِّهما (2) ".
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1015 - الإسنادان صحيحان على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے سورج طلوع ہونے تک فجر کی دو (سنت) رکعتیں نہ پڑھی ہوں، تو وہ انہیں (بعد میں) پڑھ لے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) أي: إذا طلعت الشمس، كما في الرواية الآتية برقم (1166) من طريق أبي قلابة عن عمرو بن عاصم، وهذا الحديث عن همام بهذا اللفظ تفرَّد به عنه عمرو بن عاصم الكلابي، وهو علَّته إذ قد خولف فيه كما سيأتي بيانه عند رواية أبي قلابة عنه.
(توضیح): (2) یعنی جب سورج طلوع ہو جائے (نمبر 1166)۔
سندی اختلاف: ہمام سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں عمرو بن عاصم الکلابی منفرد ہیں اور یہی علت ہے، کیونکہ ان کی مخالفت کی گئی ہے جیسا کہ ابوقلابہ کی روایت میں واضح ہوگا۔
(توضیح): (2) یعنی جب سورج طلوع ہو جائے (نمبر 1166)۔
سندی اختلاف: ہمام سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں عمرو بن عاصم الکلابی منفرد ہیں اور یہی علت ہے، کیونکہ ان کی مخالفت کی گئی ہے جیسا کہ ابوقلابہ کی روایت میں واضح ہوگا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1028 سے ماخوذ ہے۔