کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نماز کے بعد دعا کرنے کے آداب۔
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي، حدثنا عبد الصمد بن الفَضْل (2)، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة، عن أبي هانئ، عن أبي علي عمرو بن مالك، عن فَضَالة بن عُبيد الأنصاري: أنَّ رسول الله ﷺ رأَى رجلًا صلَّى لم يَحمَدِ اللهَ ولم يُمجِّده، ولم يُصلِّ على النبي ﷺ، وانصرف، فقال رسول الله ﷺ: "عَجِلَ هذا" فدَعَاه، فقال له ولغيره: "إذا صلَّى أحدُكم فليَبدأْ بتحميدِ ربِّه والثناءِ عليه، ثم ليُصلِّ على النبي ﷺ ثم يَدعُو بما شاءَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولا تُعرَفُ له عِلَّةٌ، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح على شرطهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 989 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے نماز پڑھی مگر (اس میں) نہ تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور نہ ہی نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا اور وہ نماز سے فارغ ہو کر مڑ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے جلدی کی ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اسے بلایا اور اسے یا کسی اور کو مخاطب کر کے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا سے آغاز کرے، پھر نبی کریم ﷺ پر درود بھیجے اور اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور اس میں کوئی ایسی علت (کمزوری) نہیں ہے جو اس کی صحت پر اثر انداز ہو، تاہم انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی ان دونوں کی شرط پر موجود ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 1002
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقد سلف برقم (936)» [ترقيم الرساله 1002] [ترقيم الشركة 994] [ترقيم العلميه 989]
أخبرناه أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن محمد الكِنْدي، حدثنا عَوْن بن سلَّام [حدثنا سَلَّام] (2) بن سُلَيم أبو الأحوَص، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص وأبي عُبيدة قالا: قال عبد الله: يتشهَّدُ الرجلُ، ثم يُصلِّي على النبي ﷺ، ثم يَدعُو لنفسه (3). قد أُسنِدَ هذا الحديثُ عن عبد الله بن مسعود بإسنادٍ صحيح مُهمَل:
حافظ طلحہ بابر
ابواحوص اور ابوعبیدہ رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آدمی (نماز میں) پہلے تشہد پڑھے، پھر نبی کریم ﷺ پر درود بھیجے اور اس کے بعد اپنے لیے دعا کرے۔
یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک صحیح سند کے ساتھ مروی ہے لیکن یہ (کتبِ ستہ وغیرہ میں) مذکور نہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 1003
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن أبي دارم شيخ المصنف، وشيخه الكندي لم نتبينه ولم نقف على حاله، لكن روي هذا من غير طريقهما» [ترقيم الرساله 1003] [ترقيم الشركة 995]