کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سورۃ الحج کو دو سجدوں کی فضیلت دی گئی ہے۔
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا يحيى بن إسحاق السَّيلَحِيني، حدثنا ابن لَهِيعة، عن مِشرَح بن هاعانَ، عن عُقْبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ: "فُضِّلَت سورةُ الحجِّ بسجدَتَينِ، فمن لم يسجُدْهما فلا يَقرَأْهما" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 805 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورہ حج کو (قرآن کی دیگر سورتوں پر) دو سجدوں کے ذریعے فضیلت دی گئی ہے، پس جو شخص یہ دو سجدے نہ کرے وہ اس سورت کی تلاوت نہ کرے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں ابن لہیہ موجود ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 900
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حسن بطرقه وشواهده دون قوله: "فمن لم يسجدهما فلا يقرأهما"، وفي هذا الإسناد مقال كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" 28/ (17364)» [ترقيم الرساله 900] [ترقيم الشركة 810] [ترقيم العلميه 805]
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا يوسف بن يعقوب القاضي، حدثنا محمد بن أبي بكر، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سليمان التَّيْمي، عن أبي مِجلَزٍ، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ صلَّى الظُّهرَ فَسَجَدَ، فظنَّنا أنه قرأ: ﴿تَنْزِيلُ﴾ السجدة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وهو سُنَّة صحيحة غريبة: أنَّ الإمام يَسجُد فيما يُسِرُّ بالقراءة مثلَ سجوده فيما يُعلِن (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 806 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور سجدہ (تلاوت) کیا، ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ نے سورہ السجدہ تلاوت فرمائی ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ ایک صحیح اور نادر سنت ہے کہ امام سری نمازوں (جن میں آواز نیچی رکھی جاتی ہے) میں بھی اسی طرح سجدہ تلاوت کرے جیسے جہری نمازوں میں کرتا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 901
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان التيمي لم يسمعه من أبي مجلز - وهو لاحق بن حميد - كما صرَّح هو في رواية يزيد بن هارون عنه عند أحمد 9/ (5556)، وسمَّى الواسطة بينهما في رواية ابن المعتمر عنه عند أبي داود (807)، وهو أُمية، وهذا رجل مجهول لا يُعرف-» [ترقيم الرساله 901] [ترقيم الشركة 811] [ترقيم العلميه 806]
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إيَاس، حدثنا شُعْبة. وأخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عبد الله بن خَيْرانَ وعمرو بن مرزوق قالا: حدثنا شعبة، عن منصور، عن هلال بن يَسَاف، عن عائشة قالت: باتَ رسولَ الله ﷺ ليلةً عندي، قالت: ففَقَدتُه فظننتُه أنه ذهب إلى بعضِ نسائه، قالت: فالتَمَستُه فانتهيتُ إليه وهو ساجد، فوضعتُ يدي عليه فسمعتُه يقول: "اغفِرْ لي ما أسرَرتُ وما أعلَنتُ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 807 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ میرے پاس تھے، میں نے آپ ﷺ کو (بستر پر) نہ پایا تو مجھے گمان ہوا کہ آپ اپنی کسی اور زوجہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ میں نے آپ ﷺ کو تلاش کیا تو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، میں نے اپنا ہاتھ آپ ﷺ پر رکھا تو سنا کہ آپ یہ کہہ رہے تھے: «اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ» ”میرے وہ گناہ بخش دے جو میں نے چھپ کر کیے اور جو میں نے علانیہ کیے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 902
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، من جهة ابن بالويه، وعبد الرحمن بن الحسن القاضي ضعيف، ولا يضر ذلك لأنه متابع» [ترقيم الرساله 902] [ترقيم الشركة 812] [ترقيم العلميه 807]
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الحسن العَدْل بمَرْو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيهِ الذُّهْلي، حدثنا أبو عمَّار الحسين بن حُرَيث، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: كنا نَجلِسُ عند النبي ﷺ فيقرأُ القرآنَ، فربَّما مَرَّ بسجدةٍ فيَسجُدُ ونسجدُ معه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وسجودُ الصحابة لسجود رسول الله ﷺ خارجَ الصلاة سُنَّة عزيزة. حدَّثنا الحاكم أبو عبد الله محمدُ بن عبد الله الحافظُ إملاءً في ذي القَعْدة سنة أربع وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 808 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا کرتے تھے اور آپ ﷺ قرآن کی تلاوت فرماتے تھے، بسا اوقات آپ ﷺ سجدے کی آیت سے گزرتے تو سجدہ فرماتے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ نماز سے باہر رسول اللہ ﷺ کے سجدہ کرنے پر صحابہ کا سجدہ کرنا ایک اہم سنت ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 903
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، إن شاء الله» [ترقيم الرساله 903] [ترقيم الشركة 813] [ترقيم العلميه 808]