حدیث نمبر: 901
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا يوسف بن يعقوب القاضي، حدثنا محمد بن أبي بكر، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سليمان التَّيْمي، عن أبي مِجلَزٍ، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ صلَّى الظُّهرَ فَسَجَدَ، فظنَّنا أنه قرأ: ﴿تَنْزِيلُ﴾ السجدة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وهو سُنَّة صحيحة غريبة: أنَّ الإمام يَسجُد فيما يُسِرُّ بالقراءة مثلَ سجوده فيما يُعلِن (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 806 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور سجدہ (تلاوت) کیا، ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ نے سورہ السجدہ تلاوت فرمائی ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ ایک صحیح اور نادر سنت ہے کہ امام سری نمازوں (جن میں آواز نیچی رکھی جاتی ہے) میں بھی اسی طرح سجدہ تلاوت کرے جیسے جہری نمازوں میں کرتا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 901
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان التيمي لم يسمعه من أبي مجلز - وهو لاحق بن حميد - كما صرَّح هو في رواية يزيد بن هارون عنه عند أحمد 9/ (5556)، وسمَّى الواسطة بينهما في رواية ابن المعتمر عنه عند أبي داود (807)، وهو أُمية، وهذا رجل مجهول لا يُعرف-» [ترقيم الرساله 901] [ترقيم الشركة 811] [ترقيم العلميه 806]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان التيمي لم يسمعه من أبي مجلز - وهو لاحق بن حميد - كما صرَّح هو في رواية يزيد بن هارون عنه عند أحمد 9/ (5556)، وسمَّى الواسطة بينهما في رواية ابن المعتمر عنه عند أبي داود (807)، وهو أُمية، وهذا رجل مجهول لا يُعرف.
درجۂ حدیث: (1) انقطاع کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
علّت / فنی نکتہ: سلیمان التیمی نے اسے ابومجلز (لاحق بن حمید) سے نہیں سنا جیسا کہ احمد (5556/9) میں صراحت ہے، اور ابوداؤد (807) کی روایت میں ان کے درمیان واسطہ "امیہ" نامی ایک مجہول شخص ہے۔
(2) بعد أن ثبت ضعف الإسناد، فلا يصحُّ نسبة سُنِّيته إلى النبي ﷺ.
درجۂ حدیث: (2) جب سند کا ضعف ثابت ہو گیا، تو اس کی نسبت نبی ﷺ کی سنت کی طرف کرنا صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 901 سے ماخوذ ہے۔