کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسولُ اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ امام اونچی جگہ کھڑا ہو اور لوگ اس کے پیچھے نیچے رہیں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا الأعمش، عن إبراهيم، عن همَّام: أنَّ حذيفة أَمَّ الناسَ بالمدائن على دُكّان، فأخذ أبو مسعود بقميصِه فجَذَبَه، فلما فَرَغَ من صلاته قال: ألم تَعلَمْ أنهم كانوا يَنهَونَ عن ذلك؟ - أو قال: ألم تَعلَمْ أنه كان يُنهَى عن ذلك؟ - قال: بلى، قد ذَكَرتُ حين مَدَدْتَني (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 760 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 760 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ایک چبوترے پر لوگوں کی امامت کی، تو سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کی قمیص پکڑ کر انہیں نیچے کھینچ لیا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابو مسعود نے کہا: ”کیا آپ کو معلوم نہیں کہ وہ (صحابہ) اس سے منع کیا کرتے تھے؟“ حذیفہ نے کہا: ”کیوں نہیں، جب آپ نے مجھے کھینچا تو مجھے یاد آ گیا تھا۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا زكريا بن يحيى، حدثنا زياد بن عبد الله، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن همَّام قال: صلَّى حذيفةُ بالناس بالمدائن فتقدَّم فوقَ دكَّانٍ، فأخذ أبو مسعود بمَجامِع ثيابِه فمَدَّه، فَرَجَعَ، فلما قَضَى الصلاةَ قال له أبو مسعود: ألم تَعلَمْ أنَّ رسول الله ﷺ نَهَى أن يقومَ الإمامُ فوقُ ويبقى الناسُ خلفَه؟ قال: فلَمْ تَرَني أجبتُك حين مَدَدتَني؟ (1)
حافظ طلحہ بابر
ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائی، تو سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے کپڑے پکڑ کر انہیں نیچے کھینچا جس پر وہ پیچھے ہٹ آئے، جب نماز مکمل ہوئی تو ابو مسعود نے کہا: ”کیا آپ کو علم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ امام اونچی جگہ کھڑا ہو اور لوگ اس کے پیچھے (نیچی جگہ) ہوں؟“ حذیفہ نے کہا: ”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جب آپ نے مجھے کھینچا تو میں نے آپ کی بات مان لی تھی؟“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّنْعاني (2)، حدثنا محمد بن جُعشُم، عن سفيان. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن يحيى بن هانئ بن عُرْوة المُرَادي، عن عبد الحميد بن محمود قال: صلَّينا خلفَ أميرٍ من الأمراء فاضطَرَّنا الناسُ فصلَّينا ما بين سارِيتَينِ، فلما صلَّينا قال أنس بن مالك: كنا نَتَّقي هذا على عَهْد رسول الله ﷺ (3).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 762 - صحيح
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 762 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبد الحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی تو لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنی پڑی، جب ہم نماز پڑھ چکے تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اس (ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے) سے بچا کرتے تھے۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن الخليل الأصبهاني، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا مِنْجاب بن الحارث. وحدثنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي في آخرين قالوا: حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا علي بن حُجْر، قالا: حدثنا علي بن مُسهِر، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة وأبي سعيد، عن النبي ﷺ في قوله - جلَّ وعزَّ - ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ [الإسراء: 78]، قال: "تَشْهَدُه ملائكةُ الليل، وملائكةُ النهار، تَجتمِعُ فيها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 763 - على شرطهما ثقات
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 763 - على شرطهما ثقات
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ [سورة الإسراء: 78] (بے شک فجر کے وقت قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے) کے بارے میں مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس وقت رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جمع ہو جاتے ہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔