حدیث نمبر: 855
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا زكريا بن يحيى، حدثنا زياد بن عبد الله، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن همَّام قال: صلَّى حذيفةُ بالناس بالمدائن فتقدَّم فوقَ دكَّانٍ، فأخذ أبو مسعود بمَجامِع ثيابِه فمَدَّه، فَرَجَعَ، فلما قَضَى الصلاةَ قال له أبو مسعود: ألم تَعلَمْ أنَّ رسول الله ﷺ نَهَى أن يقومَ الإمامُ فوقُ ويبقى الناسُ خلفَه؟ قال: فلَمْ تَرَني أجبتُك حين مَدَدتَني؟ (1)
حافظ طلحہ بابر

ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائی، تو سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے کپڑے پکڑ کر انہیں نیچے کھینچا جس پر وہ پیچھے ہٹ آئے، جب نماز مکمل ہوئی تو ابو مسعود نے کہا: ”کیا آپ کو علم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ امام اونچی جگہ کھڑا ہو اور لوگ اس کے پیچھے (نیچی جگہ) ہوں؟“ حذیفہ نے کہا: ”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جب آپ نے مجھے کھینچا تو میں نے آپ کی بات مان لی تھی؟“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 855
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل زياد بن عبد الله: وهو البكّائي» [ترقيم الرساله 855] [ترقيم الشركة 766]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل زياد بن عبد الله: وهو البكّائي. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: (1) زیاد بن عبداللہ البکائی کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 855 سے ماخوذ ہے۔