المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ فَوْقُ وَيَبْقَى النَّاسُ خَلْفَهُ باب: رسولُ اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ امام اونچی جگہ کھڑا ہو اور لوگ اس کے پیچھے نیچے رہیں۔
حدیث نمبر: 856
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّنْعاني (2)، حدثنا محمد بن جُعشُم، عن سفيان. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن يحيى بن هانئ بن عُرْوة المُرَادي، عن عبد الحميد بن محمود قال: صلَّينا خلفَ أميرٍ من الأمراء فاضطَرَّنا الناسُ فصلَّينا ما بين سارِيتَينِ، فلما صلَّينا قال أنس بن مالك: كنا نَتَّقي هذا على عَهْد رسول الله ﷺ (3).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 762 - صحيححافظ طلحہ بابر
عبد الحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی تو لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنی پڑی، جب ہم نماز پڑھ چکے تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اس (ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے) سے بچا کرتے تھے۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية غير (ز) إلى: الصغاني، والتصويب من (ز)، وقد سلف تبيان الصنعاني هذا وشيخه ابن جعشم عند الحديث المتقدم برقم (651).
فنی نکتہ: (2) نسخوں میں "الصغانی" ہو گیا تھا، درست "الصنعانی" ہے جس کی وضاحت حدیث نمبر (651) میں گزر چکی ہے۔
(3) إسناده بمجموع رواته عن سفيان الثوري صحيح. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهدي.
وأخرجه أحمد 19/ (12339)، وأبو داود (673)، والترمذي (229)، والنسائي (897)، وابن حبان (2218) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن. وسيأتي عند المصنف برقم (888).
درجۂ حدیث: (3) سفیان ثوری سے مروی تمام روایات کے مجموعے سے یہ سند "صحیح" ہے۔ ابوحذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود النہدی ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (12339/19)، ابوداؤد (673)، ترمذی (229) اور نسائی (897) نے روایت کیا ہے۔ یہ آگے نمبر (888) پر آئے گی۔
وله شاهد من حديث قرة بن إياس المزني، سيأتي عند المصنف برقم (889).
متابعات و شواہد: قرہ بن ایاس المزنی کی حدیث اس کا شاہد ہے جو آگے نمبر (889) پر آئے گی۔
فنی نکتہ: (2) نسخوں میں "الصغانی" ہو گیا تھا، درست "الصنعانی" ہے جس کی وضاحت حدیث نمبر (651) میں گزر چکی ہے۔
(3) إسناده بمجموع رواته عن سفيان الثوري صحيح. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهدي.
وأخرجه أحمد 19/ (12339)، وأبو داود (673)، والترمذي (229)، والنسائي (897)، وابن حبان (2218) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن. وسيأتي عند المصنف برقم (888).
درجۂ حدیث: (3) سفیان ثوری سے مروی تمام روایات کے مجموعے سے یہ سند "صحیح" ہے۔ ابوحذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود النہدی ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (12339/19)، ابوداؤد (673)، ترمذی (229) اور نسائی (897) نے روایت کیا ہے۔ یہ آگے نمبر (888) پر آئے گی۔
وله شاهد من حديث قرة بن إياس المزني، سيأتي عند المصنف برقم (889).
متابعات و شواہد: قرہ بن ایاس المزنی کی حدیث اس کا شاہد ہے جو آگے نمبر (889) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 856 سے ماخوذ ہے۔