کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسولُ اللہ ﷺ فجر کی نماز میں سورۃ الواقعہ اور اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك، عن جابر بن سَمُرة قال: كان النبي الله ﷺ يصلي نحوًا من صلاتِكم، ولكنَّه كان يخفِّفُ الصلاةَ، كان يقرأُ في صلاة الفجر بالواقعةِ ونحوِها من السُّوَر (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، وإنما خرَّج مسلم بإسناده: كان يقرأ في صلاة الفجر بالواقعة (2)!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 875 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، وإنما خرَّج مسلم بإسناده: كان يقرأ في صلاة الفجر بالواقعة (2)!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 875 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی نماز تمہاری نماز جیسی ہی تھی لیکن آپ ﷺ نماز کو مختصر فرماتے تھے، آپ ﷺ فجر کی نماز میں سورہ واقعہ اور اس جیسی سورتیں تلاوت فرماتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، امام مسلم نے صرف سورہ واقعہ والی روایت نقل کی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، امام مسلم نے صرف سورہ واقعہ والی روایت نقل کی ہے۔
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُبيد القُرَشي (3) بالكوفة، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا أبو أسامة، حدثنا سفيان، عن معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير الحضرمي، عن أبيه، عن عُقْبة بن عامر قال: سألتُ رسول الله ﷺ عن المعوِّذَتين: أمِنَ القرآنِ هما؟ فَأَمَّنَا بهما رسولُ الله ﷺ في صلاة الفجر (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد تفرَّد به أبو أسامة عن الثَّوري (2)، وأبو أسامة ثقة مُعتمَد. وقد رواه عبد الرحمن بن مَهْدي وزيد بن الحُبَاب عن معاوية بن صالح بإسناد آخر. أما حديث عبد الرحمن بن مَهْدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 876 - على شرطهما_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد تفرَّد به أبو أسامة عن الثَّوري (2)، وأبو أسامة ثقة مُعتمَد. وقد رواه عبد الرحمن بن مَهْدي وزيد بن الحُبَاب عن معاوية بن صالح بإسناد آخر. أما حديث عبد الرحمن بن مَهْدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 876 - على شرطهما_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے معوذتین (سورہ فلق اور سورہ ناس) کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ قرآن میں سے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھائیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اسے ابو اسامہ نے ثوری سے روایت کیا ہے جو کہ ثقہ اور معتبر راوی ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اسے ابو اسامہ نے ثوری سے روایت کیا ہے جو کہ ثقہ اور معتبر راوی ہیں۔
فأخبرَناه أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثني عبد الرحمن، عن معاوية بن صالح، عن العلاء بن الحارث، عن القاسم مولى معاوية، عن عُقْبة بن عامر قال: كنت أَقُودُ برسول الله ﷺ راحلتَه في السفر، فقال: "يا عقبةُ، ألَا أعلِّمُك خيرَ سورتين قُرِئَتا؟ " قلت: بلى، قال: "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾، فلما نَزَلَ صلَّى بهما صلاةَ الغَدَاة، ثم قال: "كيف تَرَى يا عقبةُ؟ " (3). وأما حديث زيد بن الحُبَاب عن معاوية بن صالح نحوُ هذا الإسناد، وهذا الإسناد لا يعلَّل الأولَ، فإنَّ هذا إسنادٌ لمتنٍ آخر، والله أعلم.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سفر میں رسول اللہ ﷺ کی سواری کی لگام تھامے ہوئے تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عقبہ! کیا میں تمہیں وہ بہترین دو سورتیں نہ سکھاؤں جو پڑھی جاتی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”«قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ»۔“ پھر جب آپ ﷺ (سواری سے) اترے تو صبح کی نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھائیں، پھر فرمایا: ”اے عقبہ! تم نے کیسا پایا؟“