حدیث نمبر: 796
فأخبرَناه أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثني عبد الرحمن، عن معاوية بن صالح، عن العلاء بن الحارث، عن القاسم مولى معاوية، عن عُقْبة بن عامر قال: كنت أَقُودُ برسول الله ﷺ راحلتَه في السفر، فقال: "يا عقبةُ، ألَا أعلِّمُك خيرَ سورتين قُرِئَتا؟ " قلت: بلى، قال: "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾، فلما نَزَلَ صلَّى بهما صلاةَ الغَدَاة، ثم قال: "كيف تَرَى يا عقبةُ؟ " (3). وأما حديث زيد بن الحُبَاب عن معاوية بن صالح نحوُ هذا الإسناد، وهذا الإسناد لا يعلَّل الأولَ، فإنَّ هذا إسنادٌ لمتنٍ آخر، والله أعلم.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سفر میں رسول اللہ ﷺ کی سواری کی لگام تھامے ہوئے تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عقبہ! کیا میں تمہیں وہ بہترین دو سورتیں نہ سکھاؤں جو پڑھی جاتی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”«قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ»۔“ پھر جب آپ ﷺ (سواری سے) اترے تو صبح کی نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھائیں، پھر فرمایا: ”اے عقبہ! تم نے کیسا پایا؟“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 796
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وهو في "مسند أحمد" 28/ (17392)» [ترقيم الرساله 796] [ترقيم الشركة 884]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. وهو في "مسند أحمد" 28/ (17392).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" 28/ (17392) میں موجود ہے۔
وأما حديث زيد بن الحباب فهو عند أحمد أيضًا برقم (17350).
حوالہ / مصدر: جہاں تک زید بن الحباب کی حدیث کا تعلق ہے، تو وہ بھی امام احمد کے ہاں نمبر (17350) پر موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (1462)، والنسائي (7799) من طريق ابن وهب، عن معاوية بن صالح، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد (1462) اور امام نسائی (7799) نے ابن وہب عن معاویہ بن صالح کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (17296)، والنسائي (7794) من طريق ابن جابر - وهو عبد الرحمن

ابن يزيد بن جابر - عن القاسم به. وانظر ما قبله.

حوالہ / مصدر: اسی کے ہم معنی روایت امام احمد (17296) اور امام نسائی (7794) نے ابن جابر (یعنی عبدالرحمن بن یزید بن جابر) عن القاسم کے طریق سے روایت کی ہے۔ مزید معلومات کے لیے سابقہ بحث ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 796 سے ماخوذ ہے۔