کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سورۃ الفاتحہ دوسری سورتوں کی جگہ کفایت کر جاتی ہے، مگر کوئی سورت اس کی جگہ کفایت نہیں کرتی۔
حدثنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرُو لفظًا غيرَ مرةٍ، حدثنا أبو الحسن أحمد بن سيَّار المروَزي، حدثنا محمد بن خلَّاد الإسكندراني، حدثنا أشهَبُ ابن عبد العزيز، حدثني سفيان بن عُيينة، عن ابن شِهاب، عن محمود بن الرَّبيع عن عُبادة بن الصامت، أنَّ النبي ﷺ قال: "أمُّ القرآن عِوَضٌ من غيرها، وليس غيرُها منها عِوَض" (1). قد اتَّفق الشيخان على إخراج هذا الحديث عن الزُّهري من أوجهٍ مختلفة بغير هذا اللفظ، ورواة هذا الحديث أكثرُهم أئمَّة، وكلُّهم ثقات على شرطهما. ولهذا الحديث شواهدُ بألفاظ مختلِفة لم يخرجاه، وأسانيدها مستقيمة فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 867 - أخرجاه بغير هذا اللفظ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 867 - أخرجاه بغير هذا اللفظ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ام القرآن (سورہ فاتحہ) دوسری سورتوں کا بدل (کفایت کرنے والی) ہے، لیکن دوسری سورتیں اس کا بدل نہیں بن سکتیں۔"
شیخین نے اس حدیث کو مختلف الفاظ میں روایت کیا ہے، اس روایت کے اکثر راوی ائمہ اور ثقہ ہیں اور شیخین کی شرط پر ہیں۔
شیخین نے اس حدیث کو مختلف الفاظ میں روایت کیا ہے، اس روایت کے اکثر راوی ائمہ اور ثقہ ہیں اور شیخین کی شرط پر ہیں۔
ما حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن موسى النَّهْرتِيريُّ (2)، حدثنا أيوب بن محمد الوزّان، حدثنا فَيْض بن إسحاق الرِّقِّي، حدثنا محمد بن عبد الله بن عُبيد بن عُمير اللَّيثي، عن عطاء، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن صلى صلاةً مكتوبةً مع الإمام، فليقرأ بفاتحة الكتابِ في سَكَتاتِه، ومَن انتَهى إلى أمِّ الكتاب فقد أجزأَه" (3). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو امام کے پیچھے فرض نماز پڑھے تو وہ امام کے سکتوں (خاموشی کے وقفوں) میں سورہ فاتحہ پڑھے، اور جس نے ام الکتاب پڑھ لی اس کے لیے نماز کافی ہے۔"
ما حدَّثَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا المؤمَّل بن هشام اليَشكُري، حدثنا إسماعيل بن عُلَيَّة، عن محمد بن إسحاق، عن مكحول، عن محمود بن الرَّبيع الأنصاري - وكان يَسكُن إِيلِيَاءَ - عن عُبادة بن الصامت قال: صلَّى رسول الله ﷺ الصبحَ فثَقُلَت عليه القراءةُ، فلما انصرف قال: "إني لأراكم تَقرؤون من وراءِ إمامكم" قلنا: أجل والله يا رسول الله، هذًّا، قال: "فلا تَفعلوا إلّا بأمِّ القرآن فإنه لا صلاةَ لمن لا يَقرؤُها" (1). وقد أَدخل محمودُ بن الرَّبيع بينه وبين عبادةَ وهبَ بن كَيْسان (2):
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی تو آپ ﷺ پر قرأت بوجھل ہو گئی، فارغ ہو کر فرمایا: "غالباً تم اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟" ہم نے کہا: "جی ہاں یا رسول اللہ! " آپ ﷺ نے فرمایا: "تم ایسا نہ کیا کرو سوائے ام القرآن (سورہ فاتحہ) کے، کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔"
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرْعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي، حدثنا الوليد بن عُتْبة، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني غيرُ واحد منهم سعيد بن عبد العزيز التَّنُوخي، عن مكحول، عن محمود، عن أبي نُعَيم، أنه سمع عبادةَ بن الصامت، عن النبي ﷺ قال: "هل تَقرؤون في الصلاةِ معي؟ قلنا: نعم، قال: "فلا تَفعَلوا إلّا بفاتحةِ الكتاب" (1). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: "کیا تم نماز میں میرے ساتھ قرأت کرتے ہو؟" ہم نے عرض کیا: "جی ہاں،" آپ ﷺ نے فرمایا: "تم فاتحہ الکتاب کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو۔"